اسرائیلی عوام نے نتین یاہو کیخلاف بغاوت کر دی اسرائیلی وزیراعظم کے مستعفی ہونے تک چین سے نہ بیٹھنے کا اعلان

صیہونی حکومت کے وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف ایک بار پھر تل ابیب میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرہ اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بد عنوانی، اقتصادی بد حالی اور کورونا کو مہار کرنے میں ناکامی کو لے کرغاصب صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کے خلاف مظاہروں کا ایک طویل سلسلہ ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے اور سکیورٹی فورسز کے تشددآمیز رویے کے باوجود نہ صرف یہ کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، بلکہ روز بروز اس میں

شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ گذشتہ روز بھی صیہونی حکومت کے وزیر اعظم کے خلاف شب بھی مظاہرہ ہوا جس میں مظاہرین نے نتن یاہو کے خلاف نعرے لگائے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ جمہوریت یا انقلاب اور نتن یاہو کے مستعفی ہونے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔مظاہرین جو گزشتہ کئی ماہ سے صیہونی وزیر اعظم کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں ، اقتدار سے ان کی برطرفی کے خواہاں ہیں۔مقبوضہ فلسطین میں گزشتہ کئی مہینوں سے نیتن یاہو کی مالی بدعنوانی اور کورونا کا مقابلہ کرنے میں ان کی کمزور کار کردگی کے خلاف مظاہرے کئے جارہے ہیں۔ اسرائیل میں اس وقت صرف نتن یاہو کو ہی تفتیش کا سامنا نہیں ہے بلکہ صیہونی حکومت کے دیگر حکام بھی اخلاقی و مالی بدعنوانی میں ملوث ہیں۔