کورونا ایس او پیزکی خلاف ورزی پر برطانوی پولیس نے نوازشریف کے خلاف تحقیقات شروع کردیں

کورونا ایس او پیزکی خلاف ورزی پر برطانوی پولیس نے مسلم لیگ نون کے قائد نوازشریف کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں‘بتایا گیا ہے کہ برطانوی شہریوں کی شکایات پر پولیس نے نوازشریف کے خلاف تحقیقات شروع کی ہیں. بتایا گیا ہے نوازشریف کی اپنے محافظوں اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ لندن کے ہائیڈر پارک میں ویڈیو اور تصاویر سامنے آنے کے بعد برطانیہ کے شہریوں نے پولیس کو شکایات درج کروائیں جن میں نوازشریف پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے کورونا ایس اوپیزکی خلاف ورزی کی ہے لہذا ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے .
منظرعام پر آنے والی تصاویر میں نوازشریف بغیر ماسک کے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پارک میں چہل قدمی کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ برطانوی حکومت کی جانب سے جاری ایس او پیزکے تحت عوامی مقامات پر بغیر ماسک کے جانا جرم ہے اسی طرح ایس او پیزکے تحت چھ سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہے جبکہ تصاویر میں سابق وزیراعظم کے ساتھ آٹھ سے دس افراد نظر آرہے ہیں.

لندن پولیس نے نوازشریف پر لندن میں کورونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کے لیے عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام کے تحت ان کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں. لندن میں چھ سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہے اور جرم ثابت ہونے پر نوازشریف کو دو سو پاونڈ جرمانہ ہوسکتا ہے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو لندن کے ماربل آرچ علاقہ میں بنا ماسک پہنے دیکھا گیا.
ریڈینٹ نامی ٹوئٹر صارف نے لندن پولیس کی توجہ اس جانب مبذول کرائی شکایت کرنے والے ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ یہ شخص جس کا نام شریف ہے ہمیشہ اس قانون کی خلاف ورزی کرتا آرہا ہے پولیس نے جواباً کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے. سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں نواز شریف اپنے کارکنوں کے ہمراہ چہل قدمی کرتے دیکھا جا سکتا ہے وہ چھ سے زائد افراد کے ساتھ ٹہل رہے تھے حکومت برطانیہ نے کورونا وبا سے بچنے کے لیے صرف چھ افراد کی قربت میں آنے کی اجازت دے رکھی ہے.
ایس او پیزکے تحت لندن میں چھ سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی ہے جس کی خلاف ورزی پر قانون حرکت میں آ سکتا ہے برطانیہ میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے خطرے کے پیش نظر وبا سے بچنے کے لیے حفاظتی قوائد و ضوابط مزید سخت کر دئیے گئے ہیں.