تیل اور گیس کے شعبے میں 15 کھرب 35 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

موجودہ حکومت کے پہلے سال کے دوران تیل اور گیس کے شعبے میں 15 کھرب 35 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں اور ریونیو نقصانات کی نشاندہی کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے وزارت خزانہ پر آڈٹ کے لیے ریکارڈ کی عدم فراہمی، خطیر قرض اور اپنے عملے کو غیر مجاز بونس کی تقسیم کا الزام لگادیا.
رپورٹ کے مطابق تقریباً 8 ماہ کی تاخیر کے بعد قومی اسمبلی کے سامنے رکھے گئے آڈٹ سال 2019-20 کے لیے اپنی رپورٹ میں اے جی پی نے کہا کہ وزارت خزانہ نے متعدد درخواستوں کے باوجود مالی سال 2019 کے کم از کم 13 اہم اکاﺅنٹس سے متعلق آڈٹ کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا.
آڈٹ کے لیے پیش نہ ہونے والے ریکارڈ میں اخراجات کے حتمی اسٹیٹمنٹس، وزارت خزانہ کی جانب سے کی گئی ہر قسم کی سرمایہ کاری، منصوبوں کی تکمیل اور پیشرفت رپورٹس، عارضی طور پر تعینات کیا گیا عملہ اور کنسلٹنٹس، بقایا ریکوریز، قومی و بین الاقوامی بانڈز اور درآمدکنندگان و برآمدکنندگان کو ادا کیے گئے قرضوں اور سود اور ریفںڈز کی تفصیلات شامل ہیں.

آڈٹ میں مشاہدہ کیا گیا کہ مارچ 2019 کے آخر تک کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کا عوامی قرضہ جی ڈی پی کا 74.2 فیصد تھا جو مالی ذمہ داریوں اور قرض کی حد بندی کے قانون کے تحت 60 فیصد سے کہیں زیادہ تھا. نیز آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزارت خزانہ نے ٹیکس کے حصص پر مالی سال 2019 کے دوران صوبوں کو 7 ارب 30 کروڑ روپے تک کی رقم کی ادائیگی کم کی اور کلیکشن چارجز میں کٹوتی کی اس میں کہا گیا کہ وزارت خزانہ نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی تھی کہ وہ ایک فیصد وصولی کے چارجز کی کٹوتی کے بعد نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے مطابق صوبوں کے اکاﺅنٹس میں ان کے ٹیکس محصولات جمع کرے.
تاہم آڈٹ نے مشاہدہ کیا کہ 12 ارب 75 کروڑ روپے وصولی کے چارجز کی مد میں مزید کٹوتی کی گئی جس سے صوبوں کو 7 ارب 25 کروڑ روپے سے محروم کردیا گیاآڈٹ میں کہا گیا کہ وزارت نے مالی سال 2019 کے دوران اپنے ملازمین کو 26 کروڑ40 لاکھ روپے کے مراعات کی غیر مجازی ادائیگی کی تھی. آڈٹ نے اس خلاف ضابطہ اور غیر مجازی ادائیگیوں اور آڈت کا ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کیااسی طرح اے جی پی نے پیٹرولیم ڈویژن میں مالی انتظامات کی سنگین کمزوریوں کا بھی انکشاف کیا اور بتایا کہ ریونیو وصولیوں کے جائزہ لینے اور جمع کرنے، گیس ڈیویلپمنٹ سرچارج والے علاقوں کی ریکوری، گیس انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس، پیٹرولیم لیوی اور رائلٹی کی نگرانی کے لیے کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے.
اس میں کہا گیا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے پاس اپنا آڈٹ ڈیپارٹمنٹ ہے تاکہ وہ اپنی کارکردگی کی مناسب جانچ اور توازن برقرار رکھ سکے تاہم وہ اپنا مرکزی کردار ادا کرنے میں ناکام رہا اور اس نے صرف پری آڈٹ کا کردار نبھایا. آڈٹ میں پبلک سیکٹر انٹرپرائزز جن میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ شامل ہے، کے صارفین سے مالی سال 2019 میں قابل ادا رقم کی ریکوری نہ کرنے کے 16 بڑے کیسز کا انکشاف کیا گیا جس کی رقم 793 ارب روپے بنتی ہے.