بلوچستان حکومت کا اپوزیشن جلسے سے قبل بڑا فیصلہ، دفعہ 144 نافذ کردی

چیف سیکرٹری بلوچستان نے دفعہ 144 نافذ کرنے کی ہدایت کردی ہے، اپوزیشن جماعتوں کو دہشتگردی تھریٹ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، جلسے سے کورونا وائرس پھیلنے کے بھی خدشات ہیں، پی ڈی ایم کو چاہیے جلسہ منسوخ کردے۔ تفصیلات کے مطابق چیف سیکرٹری کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں اپوزیشن کے جلسے سے متعلق انتظامات اور سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بلوچستان حکومت نے اپوزیشن کے جلسے سے نمٹنے کیلئے بڑا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے تحت چیف سیکرٹری بلوچستان نے دفعہ 144نافذ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ دہشتگردوں کے کوئٹہ میں دہشتگردی کے امکانات ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں دہشتگردی تھریٹ کو سنجیدگی سے لے، جلسے کے باعث کورونا وائرس پھیلنے کے بھی خدشات ہیں۔
جلسے میں آنے والے قائدین اور شرکاء کو چاہیے کہ کورونا ایس اوپیز پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

سندھ حکومت شرکاء کو ماسک بھی فراہم کرے گی۔ چیف سیکرٹری نے اپیل کی ہے کہ سکیورٹی خدشات ہیں اس لیے پی ڈی ایم کو چاہیے کہ جلسہ منسوخ کردیں۔ چیف سیکرٹری کی ہدایت کے بعد کوئٹہ میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے، پابندی کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔ دوسری جانب پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ طبل جنگ بج چکا ہے، جلسہ ہرصورت ہوگا، حکومت کا فرض ہے اگر سکیورٹی خدشات ہیں تو جلسے کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔
نائب صدر ن لیگ مریم نواز نے کہا کہ دہشتگردی کا خطرہ ہے تو حکومت جلسے کو سکیورٹی فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ووٹوں پر ڈاکہ ڈال کر بنائی گئی حکومت کے جانے کے دن قریب آچکے ہیں، کوئٹہ کے جلسے میں بلوچستان کے عوام جعلی وسلیکٹڈ حکومت اور سلیکٹرز کو پیغام دیں گے کہ ان کے دن گنے جا چکے ہیں اگر اسلام آباد جانے کی کال دی گئی تومسلم لیگ(ن) بلوچستان کے کارکن اس میں بھر پور انداز میں شرکت کریں۔ دوسری جانب پی ڈی ایم کے جلسے کیلئے ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں انتظامات کا سلسلہ جاری ہے، اسٹیڈیم کے اندر60 ہزار سے زائد لوگ جمع ہوسکتے ہیں، لیکن اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اسٹیڈیم سے باہر بھی لوگ ہی لوگ ہوں گے۔