دنیا میں امن اور باہمی تعاون کا فروغ چاہتے ہیں‘گلوبل ویلج ہمارے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہیں. چینی صدر

چین کے صدر شی جن پنگ نے شنگھائی تعاون تنظیم کے 20ویں سربراہ اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں زور دیا ہے کہ آج کی دنیا میں تمام انسان ایک گلوبل ویلج میں رہتے ہیں ، اور تمام ممالک کے مفادات ایک دوسرے کے ساتھ باہم جڑے ہوئے ہیں اور ان کے مستقبل کا آپس میں گہرا تعلق ہے تمام ممالک کے عوام بہتر زندگی کے لئے تڑپ رکھتے ہیں ، امن ، ترقی ، تعاون اور جیت کے جذبات سے سرشار ہیں، اس راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے ناقابل تلافی نقصانات ہوں گے.
شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال کے تحت شنگھائی تعاون تنظیم کی ”شنگھائی روح“کو بروے کار لاتے ہوئے اور اتحاد و تعاون کو فروغ دیتے ہوئے علاقائی ممالک کے استحکام اور ترقی میں زیادہ سے زیادہ شرکت کرنا چاہئے ، اور بنی نوع انسان کی فلاح کے لیے امن اور بھائی چارے کی بنیادوں پرمعاشروں کی تعمیر کو آگے بڑھانے کے لئے مزید عملی کام کرنا ہوں گے.
صدر شی نے کہا کہ کورونا وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے لئے تمام ممالک کو باہمی روابط کو مضبوط کرنا ہوگا، وبا سے نمٹنے کے لئے ایک دوسرے کی کوششوں کی حمایت کرنا ہوگی اور وبائی نگرانی ، سائنسی تحقیق اور بیماریوں سے بچاﺅ جیسے شعبوں میں تبادلہ خیال اور تعاون کو گہرا کرنا ہوگا. صدر شی پنگ نے چین کی جانب سے رکن ممالک کے درمیان انسداد امراض کے قومی مراکز کے درمیان ہاٹ لائن قائم کرنے کی تجویزپیش کی ا نہوں نے کہا کہ چین تنظیم کے رکن ممالک میں ویکسین کی ضروریات کو پورا کرنے کے فعال طور پر غور کرنے کے لئے تیارہے.
چینی صدر نے کہا کہ ہمیں ثابت قدمی سے رکن ممالک کے قانون کے مطابق ان کے اپنے اندرونی سیاسی معاملات میں پیش رفت کو فروغ دینے کی حمایت کرنی چاہیئے ہمیں مختلف ممالک کی جانب سے اپنی سیاسی سلامتی اور سماجی استحکام کے تحفظ کی حمایت کرنی چاہیئے اور ہمیں بیرونی قوتوں کی جانب سے کسی بھی بہانے سے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے اندرونی امور میں مداخلت کی سختی سے مخالفت کرنی چاہیئے.
صدر شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا کہ رکن ممالک چین کے تجربات سے سے فائدہ اٹھائیں اور چین کے ساتھ فعال طور پر گہرے تعاون کو فروغ دیں.موجودہ عالمی صورتحال کے تناظر میں چینی صدرشی جن پنگ کا خطاب انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جارہا ہے اور پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ کی نظریں صدر شی جن پنگ کے خطاب پر ہیں. قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کورونا 5 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے کورونا سے دنیا کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے.
پاکستان کورونا وائرس کے خلاف چین کے اقدامات کو سراہتا ہے کورونا بحران میں چین کی جانب سے امداد کو بھی سراہتے ہیں انہوں نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے پاکستان اور چین کرونا ویکسین کے ٹرائل پر بھی کام کر رہے ہیں مکمل لاک ڈاﺅن ترقی پذیراور ترقی یافتہ ممالک کے لیے نقصان دہ ہے. انہوں نے کہا کہ کورونا بحران میں عالمی مالیاتی اداروں اور جی 20 کو غریب ممالک کی مدد کرنی چاہئیے کورونا وائرس کے باعث پوری دنیا کی معیشت سست روی کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم نے دو دہائیوں میں بے پناہ کامیابیاں حاصل کی ہیں وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے افغانستان کو مفاہمتی عمل سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہو گا افغان مہاجرین کی باعزت واپسی انٹرا افغان مذاکرات کا اہم جزو ہے.
افغان امن عمل میں رکاوٹ ڈالنے والوں پر نظر رکھنا ہو گی ی جبکہ ایرانی جوہری معاہدے پر ایس سی او حکمت عملی مرتب کرے انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے ڈیجیٹل گلوبل ڈیٹا سکیورٹی اقدام کو سراہتے ہیں وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی ملک یا مذہب کو دہشت گردی سے جوڑنا صحیح نہیں ہے اقوام متحدہ کو عالمی حل طلب مسائل میں سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی.
دنیا کو بین المذاہب ہم آہنگی کی بے حد ضرورت ہے۔
ممالک میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پر امن طریقہ اپنانا ہو گا عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں پیش کی ہیں پاکستان ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف کھڑا رہا ہے بعض ممالک سیاسی فائدے کے لیے دہشت گردی کا الزام لگاتے ہیں مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے کو غیرقانونی قرار دیا جائے اور شنگھائی تعاون تنظیم مذہبی آزادی اور اظہار آزادی کو یقینی بنائے.

انہوں نے اپنی حکومت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت غریب کو ریلیف دینے کے لیے پ±ر عزم ہے پاکستان نے سمارٹ لاک ڈاﺅن کے ذریعے عوام کو بھوک سے بچایا دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اہم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے اقدامات کررہاہے ، پاکستان اگلے3 سال میں 10ارب درخت لگائے گا.
عمران خان نے کہا کہ کرپشن کےخلاف جنگ ہماری حکومت کا مقصد ہے اور روز دیا کہ ایس سی او غریب ممالک سے غیرقانونی رقم منتقلی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے. واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس آج10 نومبر سے شروع ہوا ہے اور روس اس کی میزبانی کررہا ہے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو بھی ویڈیو لنک کے ذریعہ اجلاس میں شرکت اور خطاب دی گئی تھی. وزیراعظم عمران خان کو یہ دعوت روس کی دی گئی تھی روس اجلاس کی میزبانی اور پاکستان،چین سمیت رکن ممالک شرکت کر رہے ہیں کورونا کی دوسری لہرکے خدشے کے پیش نظر شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ویڈیولنک کے ذریعے ہورہا ہے اجلاس میں کورونا، افغان مسئلے سمیت اہم تنازعات اور دہشت گردی ‘ انسانی و منشیات اسمگلنگ،منظم وسائبرکرائم اہم موضوعات ہونگے اجلاس میں 4 مبصرممالک افغانستان،بیلاروس،ایران،منگولیا بھی شرکت کر رہے ہیں جبکہ تنظیم کے مذاکراتی شراکت دارممالک آرمینیا،آذربائیجان، کمبوڈیا،نیپال،سری لنکا،ترکی کی بھی شرکت متوقع ہے.