جدہ میں ہونے والا دھماکہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر کا ممکنہ رد عمل

سعودی عرب کے شہر جدہ میں اب سے کچھ دیر قبل دھماکہ ہوا ۔ یہ دھماکہ غیر مسلموں کے قبرستان میں اُس وقت ہوا جب وہاں پہلی جنگ عظیم کے اختتام کے حوالے سے ایک تقریب منعقد تھی۔ اس دھماکے میں فرانسیسی قونصلر جنرل اور کئی ممالک کے سفارتکار بھی شریک تھے۔ فرانسیسی حکومت نے اس دھماکے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ایک بزدلانہ دھماکہ تھا۔
تاہم اب اس دھماکے کو فرانس میں ہونے والے اسلام مخالف مظاہروں اور گستاخانہ خاکوں کی تشہیر کا ایک رد عمل قرار دیا جا رہا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ غیر مسلموں کی تقریب، جس میں فرانسیسی عہدیدار بھی شریک تھے ، میں حملہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ دھماکہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا ایک بدلہ ہو سکتا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فرانس میں ناموس رسالتﷺ کے حوالے سے کئی ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔

فرانسیسی حکومت کبھی اسکارف کے نام پر کبھی برقعہ کے نام پر اور کبھی اکٹھے نماز پڑھنے کے نام پر اسلام مخالف اقدامات کرتے چلے آئے ہیں۔ فرانسیسی حکومت کے ہی کہنے پر ایک ملعون نے خاکے پوسٹر کی صورت میں آویزاں کیے۔ حال ہی میں شمالی فرانس میں نامعلوم حملہ آور مسجد میں خنزیر کے کٹے ہوئے سر پھینک کر فرار ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی فرانس کے شہر کومپیئن میں ترک اسلامک یونین برائے مذہبی امور نے بتایا کہ مقامی جامع مسجد پر ایک نفرت انگیز حملہ ہوا ہے۔
مسجد کی بے حرمتی کرنے والے حملہ آوروں نے خنزیر کے دو کٹے ہوئے سر مسجد کے اندر پھینکے اور فرار ہوگئے۔ جس کے بعد ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسلام مخالف لابی یہ سب کچھ شاید حکومتی ایما پر ہی کر رہی ہے یا اسے حکومتی پُشت پناہی حاصل ہے وگرنہ ایسا کرنے والوں کو سزا ضرور ملتی۔