کورونا ویکسین کی پاکستان میں ترسیل کے انتظامات پرکام شروع

کورونا ویکسین کے دستیاب ہوتے ہی پاکستان بھر میں اس کی ترسیل کے انتظامات پرکام شروع کردیا گیا۔ اس حوالے سے ترجمان وزارت صحت کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس جنوری 2020ء سے دنیا بھر میں عالمی وباء کورونا ویکسین کی تیاری کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں ، ویکسین کے دستیاب ہوتے ہی اس کی فراہمی کی مربوط حکمت عملی پرکام کیا جارہا ہے ، پاکستان میں کورونا ویکسین پر بنائی گئی ماہرین کی خصوصی کمیٹی اس تمام صورتحال کی نگرانی کررہی ہے ، ویکسین کی فراہمی کے لیے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ ساتھ گاوی اور کوویکس سے بات چیت کی جارہی ہے ، کورونا ویکسین کے دستیاب ہوتے ہی ملک بھر میں اس کی ترسیل کے انتظامات پرکام کا آغاز کردیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق دنیا بھر میں مختلف کمپنیوں کی تیار کردہ ویکسین کے ٹرائلز کا عمل بھی جاری ہے ، جب ان تمام ویکسین کے ٹرائلز مکمل ہوجائیں گے تو اس کے بعد ڈیٹا کا تجزیہ کیا جائے گا۔ دوسری طرف وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے کورونا کے چیئرپرسن ڈاکٹر عطاالرحمان نے کہا ہے کہ کورونا ویکسین پر ابھی خوشیاں نہ منائی جائیں ، کیوں کہ عالمی وباء کی ویکیسن آنے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کورونا ویکسین کی 90 فیصد افادیت ابھی ابتدائی ہے ، رضا کاروں کو پیسے دیے جارہے ہیں فری میں ٹرائل نہیں ہورہے ، ویکیسن آنے کا ابھی 8 سے10ماہ کوئی چانس نہیں ہے ۔ ڈاکٹر عطاالرحمان نے کہا کہ کورونا کی ویکسین لانے کے لیے نیشنل کولڈ چین کی ضرورت ہے ، ویکسین آبھی جائے تو اس پر بڑا خرچہ کرنا پڑے گا۔ وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے کورونا کے چیئرپرسن نے بتایا کہ پاکستان میں بھی ویکسین کے 2 کلینیکل ٹرائل ہورہے ہیں ، یہ ویکیسن پاکستان کے لیے مفید ہوگی جو کہ سستی بھی ملے گی ، اس وقت کورونا کی دوسری لہر زیادہ خطرناک لگ رہی ہے کیوں کہ کورونا وائرس لگاتار اپنی شکل تبدیل کررہا ہے۔