حکومت کی شرکت کے بغیر ہر قسم کے ’نیشنل ڈائیلاگ‘ کی تجویز مسترد

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے حکومت کی شرکت کے بغیر ہر قسم کے نیشنل ڈائیلاگ کی تجویز مسترد کردی ، انہوں نے کہا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگا لیکن ایسے ڈائیلاگ کی کیا حیثیت ہوگی جس میں حکومت کو ہی شامل نہیں کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ اپوزیشن قوم کو بند گلی میں لے کر جارہی ہے سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے فوج کے خلاف بیان دے کر عمران خان کی خدمت کی ہے ، امید ہے ان کی سیاست کا جنازہ نہیں نکلے گا ، دعا ہے کہ خدا ان کو عقل اور شعور دے اور یہ تیزی سے مذاکرات کی طرف آئیں ، جس کے بعد ہی مذاکرات اور ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع ہوگا جو کہ حکومت سمیت اور حکومت کے ساتھ ہوں گے کیوں کہ اس ڈائیلاگ کی کیا حیثیت ہوگی جس میں حکومت ہی شامل نہیں ہوگی۔
شیخ رشید احمد نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک نہیں بلکہ چار مرتبہ کہا ہے کہ جس کسی کی بھی حکومت ہوگی فوج اس کے ساتھ کھڑی ہوگی ، اس صورتحال میں کوئی بھی عقل کا اندھا یہ نہ سوچے کہ پاکستان کی عظیم فوج کو ملک کے کسی بھی مسئلے سے الگ کیا جاسکتا ہے۔ وزیر ریلوے نے مزید کہا کہ نیب کیسز اور این آر او سے ہٹ کر وزیراعظم عمران خان ہر ایک سے بات چیت کے لیے تیار ہیں کیوں کہ جب سیاسی لوگ آپس میں بات چیت نہیں کرتے تو ان کی سیاست کا جنازہ نکلتا ہے اور مجھے امید ہے کہ اس ملک میں سیاست کا جنازہ نہیں نکلے گا۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے عدلیہ کے زریعے قومی ڈائیلاگ کی تجویز دی تھی ، انہوں نے کہا کہ فریقین کو ایک ایسی چھت ڈھونڈ لینی چاہیئے جس کے نیچے بیٹھ کر سارے گفتگو کرسکیں ، خواجہ آصف نے کہا کہ دو سال قبل جب آصف کھوسہ چیف جسٹس بنے تو انہوں نے ایک بیان دیا کہ اس سلسلے کا عدلیہ آغاز کرسکتی ہے ، ہماری تاریخ میں عدلیہ بھی کئی بار متنازع ہوئی لیکن آج بھی اگرعدلیہ اس عمل کا آغاز کرے تو ایک نیشنل ڈائیلاگ شروع کیاجاسکتا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہماری قوم کو بہت زیادہ تقسیم کی یہاں تک کہ وہ قومی سیکیورٹی امور پر ہونے والی میٹنگز میں بھی شریک نہیں ہوتے اور کہتے ہیں کہ انہوں نے اپوزیشن کے ساتھ نہیں بیٹھنا اسی وجہ سے ایسی میٹنگز کی آرمی چیف ہی صدارت کرتے رہے، فروری جب بھارت کی طرف سے جارحیت کی گئی تو اس وقت بھی انہوں نے سیاسی رہنماؤں کو بریفنگ دی ، اس اجلا س میں اسپیکر قومی اسمبلی کو موجود تھے لیکن اس میں وزیراعظم کا بیٹھنا ضروری تھا۔