علامہ خادم حسین رضوی کون تھے؟بریلوی مکتبہ فکر میں قیادت کا خلاءکیسے پیدا ہوا؟

مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک کے بانی خادم حسین رضوی کے بارے میں کچھ سال پہلے تک کوئی نہیں جانتا تھا 2011میں پنجاب پولیس کی جانب تعینات سیکورٹی ممتازقادری نے گورنرپنجاب سلمان تاثیر کواسلام آباد میں اندھادھندفائرنگ کرکے قتل کردیا تو علامہ خادم رضوی کا نام پہلی مرتبہ منظرعام پر آیا.
حتی کہ لاہور میں مذہبی جماعتوں کی بیٹ کرنے والے صحافیوں کو بھی ان کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا انہی میں سے ایک ”اردوپوائنٹ“کے ایڈیٹر میاں محمد ندیم بتاتے ہیں کہ جب وہ مذہبی جماعتوں کی بیٹ کیا کرتے تھے تو انہوں نے کبھی علامہ خادم حسین رضوی کا نام نہیں سنا ان کا نام پہلی مرتبہ ممتازقادری کی رہائی کے لیے چلائی جانے والی تحریک کے دوران ہی سامنے آیا اس تحریک کے آغازمیں بھی تیسرے درجے کی لیڈرشپ میں شمار ہوتے تھے.
انہوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر اس وقت تحریک کا آغاز ایس ٹی(سنی تحریک) نے لاہور کے بریلوی مکتبہ فکر کے مدارس اور جماعتوں کے ساتھ مل کر کیا تھا ‘ یہ وہ وقت تھا جب بریلوی مکتبہ فکر میں مذہبی اور سیاسی قیادت کا فقدان تھا مولانا شاہ احمد نورانی 2003میں وفات پاچکے تھے ان کے بعد 2009جامعہ نعیمیہ کے متہم ڈاکٹرسرفرازنعیمی کی شہادت ہوگئی اسی طرح یکے بعد دیگر جمعیت علماءپاکستان (نیازی)کے انجنیئرسلیم اللہ خان سمیت بریلوی مکتبہ فکر کی قیادت کرنے والی لیڈرشپ اس دنیا سے رخصت ہوچکی تھی .
علامہ خادم حسین رضوی کے قریبی ساتھی پیر افضل قادری نے اپنی جماعت تنظیم اہلسنت کے ذریعے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی اور صاحبزادہ فضل کریم‘سید محفوظ شاہ مشہدی کے ساتھ مل کر سنی اتحاد کونسل کے نام سے بریلوی مکتبہ فکر کے مذہبی اور سیاسی خلاءکو پر کرنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوکر دوبارہ لاہور سے اپنی خانقاہ نقیب آباد موہریاں گجرات واپس چلے گئے .
میاں ندیم نے کہا کہ اصل میں بریلوی مکتبہ فکر میں قیادت کا بحران رہا 1948میں شیخ القران مولانا محمد غفور ہزاروی ‘ علامہ ابوالحسنات اورسید محمد احمد قادری نے جمعیت علمائے پاکستان کی بنیاد رکھی جوکہ بنیادی طور پر ”آل انڈیا سنی کانفرنس“کا ہی دوسرا نام تھا . مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا شاہ احمد نوارانی کے مابین اختلافات کی بنیاد پر جمعیت علمائے پاکستان (جے یوپی)دودھڑوں میں تقسیم ہوگئی ان دونوں راہنماﺅں کی زندگیوں تک بریلوی مکتبہ فکر کومظبوط مذہبی اورسیاسی قیادت میسر رہی لاہور کی حد تک جامعہ نعیمہ کے ڈاکٹرسرفرازنعیمی شہید بہت بااثر شخصیت تھے .
سنیئرصحافی شہبازانورخان‘عاصم حسین اور قذافی بٹ بھی مذہبی جماعتوں کے بیٹ رپورٹر رہے ہیں وہ بھی میاں محمد ندیم سے متفق ہیں کہ قیادت میں جو خلاءآیا تھا اس کی وجہ سے پرامن بریلوی مکتبہ فکر میں کسی حد تک شدت کا عنصر آگیا ان کا کہنا ہے کہ سنی تحریک چونکہ کراچی سے شروع ہوکر لاہور آئی تھی اور اس وقت کی مین سٹریم بریلوی قیادت کی جانب سے انہیں پذیرائی نہیں ملی تھی لہذا انہوں نے متبادل قیادت پر کام شروع کردیا جس کا نتیجہ پہلی مرتبہ لاہور میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب14فروری2006کو ڈنمارک کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف بریلوی مکتبہ فکر کی داتا دربار سے گورنر ہاﺅس جانے والی ایک ریلی نکالی گئی جس نے مال روڈ پر آکر ایک پرتشددہجوم کا روپ اختیار کرلیا .
وہ اس دن کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہم 8/10رپورٹر داتا دربار سے جلوس کے ساتھ چلنا شروع ہوئے مگر ٹاﺅن ہال کے سامنے پہنچنے پر جلوس کے شرکاءمیں ہلچل مچل گئی جس پر ہمارے کچھ ساتھی فوٹوگرافروں سے لفٹ لے کر ہائی کورٹ سے آگے پہنچے تو ایک طرف شیزان ریسٹورنٹ جل رہا تھانقاب پوش نوجوان ”بوتل بم“انتہائی مہارت سے ریسٹورنٹ کے اندر پھینک رہے تھے جلانے سے پہلے ریسٹورنٹ کو لوٹا گیا تھا یہی حال شیزان کے قریب واقع گاڑیوں کے ایک شوروم کا ہوا .
لاہور میں اس دن ہزاروں موٹرسائیکلیں جل کر راکھ ہوگئیں ‘درجنوں گاڑیوں کو جلادیا گیا کئی بنکوں کے اے ٹی ایم توڑ کر پیسے چرالیے گئے وہ دن لاہور کی تباہی کا دن تھا ایجرٹن روڈ پر ایک عمارت کی پارکنگ میں کھڑی درجنوں موٹرسائیکلیں مکمل طور پر جلی ہوئی تھیں وہ واقعی ہی ایک خوفناک دن تھا. میاں محمد ندیم کے مطابق اصل مسلہ وہی تھا قیادت کا فقدان 14فروری2006کو پیش آنے واقعات کے بعد ڈاکٹرسرفرازنعیمی شہید نے خود کو ان معاملات سے الگ کرلیا تھا کیونکہ وہ انتہائی پرامن اور نفیس انسان تھے لاہور میں جو کچھ ہوا اس پر وہ خود صدمے میں تھے جس کا اظہار انہوں نے میرے ساتھ اسی رات فون پر بات کرتے ہوئے کیا.
علامہ خادم حسین رضوی اگرچہ 2011میں ہی متبادل قیادت کے طور پر سامنے آچکے تھے مگر انہیں اصل شہرت نومبر 2017 میں اسلام آباد کے فیض آباد چوک میں توہین رسالت ﷺکے قانون میں ترمیم کے خلاف ایک طویل دھرنے سے ملی ممتازقادری والے معاملے کے بعد انہوں نے اپنی دینی سرگرمیوں کو سیاست کا رنگ دیا حکومت کے خلاف بیانات اور سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں پنجاب کے محکمہ اوقاف نوکری سے برخاست کردیا جس کے بعد انہوں نے ستمبر 2017 میں تحریک کی بنیاد رکھی اور اسی برس ستمبر میں این اے 120 لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں 7 ہزار ووٹ حاصل کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا.
علامہ خادم حسین رضوی حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور عربی کے ساتھ فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے ان کے دو بیٹے بھی مختلف احتجاج میں شریک رہے ہیں خادم حسین ٹریفک کے ایک حادثے میں معذور ہو گئے تھے اور سہارے کے بغیر نہیں چل سکتے تھے. وہ 22 جون 1966 کو ”نکہ توت“ ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی ان پر مختلف نوعیت کے کئی مقدمات بھی درج تھے ٹی ایل پی کے راہنما اعجاز اشرفی نے بتایا کہ ان مقدمات کی تعداد کتنی ہے انھیں یاد نہیں.
جنوری 2017 میں بھی توہین رسالتﷺ کے قانون کے حق میں لاہور میں ایک ریلی نکالی تھی جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور انہیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا یہ ان کی پہلی گرفتاری تھی وہ اپنے انتقال تک پنجاب حکومت نے فورتھ شیڈول میں تھے جس کا مطلب ہے کہ انہیںاپنی نقل و حرکت کے بارے میں پولیس کو آگاہ رکھنا ہوتا تھا .