تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم رضوی کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ لاہور میں ادا کر دی گئی۔تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ کیلئے مینار پاکستان کی گراؤنڈ پر تاریخی اجتماع ہوا جس میں ملک بھر سے غیر معمولی تعداد میں کارکنان اور عقیدت مندوں نے شرکت کی جبکہ بہت بڑی تعداد میت کو نمازجنازہ کے مقام تک لانے والی ایمبولینس کے ساتھ ساتھ چلتے رہے ۔
۔ خادم حسین رضوی کا جسد خاکی ایمبولینس کے ذریعے مینار پاکستان لے مینار پاکستان گرائونڈ لبیک یارسول اللہ کے نعروں سے گونجتا رہا اور یہ آواز دور دور تک سنی گئی ۔ایمبولینس کے ساتھ چلنے والے کارکنان اور عقیدت مند بھی لبیک یارسول اللہ اور تاجدار ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔
قافلے کے ہمراہ موجود کارکنان اور عقیدت مند میت والی ایمبولینس پرپھولوں کی پتیاں نچھاورکرتے رہے۔

آج علامہ خادم رضوی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ ان کے صاحبزادے حافظ سعد رضوی نے پڑھائی۔اس موقع پر ان کے چاہنے والوں کو روتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

علامہ خادم حسین رضوی کے جنازے میں رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن سمیت لاکھوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کو آج سپرد خاک کر دیا جائے گا۔
علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ کے لیے ان کے جسد خاکی کو پہلے مینار پاکستان جبکہ نماز جنازہ کے بعد دوبارہ ان کی میت کو ان کی رہائشگاہ پر لایا جائے گا جہاں ان کی تدفین کی جائے گی۔

۔۔ واضح رہے کہ علامہ خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے تھا۔ وہ 22 جون 1966 کو ’نکہ توت‘ ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔
جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔ خادم حسین رضوی ٹریفک کے ایک حادثے میں معذور ہو گئے تھے اور سہارے کے بغیر نہیں چل سکتے ہیں۔ خادم حسین رضوی نے گزشتہ کچھ سالوں کے دوران پاکستانی سیاست میں اہم مقام حاصل کیا تھا۔