سعودی عرب نے اسرائیلی وزیراعظم سے سعودی ولی عہد کی ملاقات کی تردید کردی

سعودی عرب نے اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب اور ولی عہد سے ملاقات کی خبروں کی تردید کردی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دورے میں ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے ۔
امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات میں صرف امریکی اور سعودی حکام شریک تھے ۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ ملاقات کے متعلق میڈیا رپورٹس دیکھیں ایسا کچھ نہیں ہوا ہے، ملاقات صرف امریکی حکام سے ہوئی ہے، اسرائیل کا کوئی نمائندہ اس میٹنگ میں نہیں تھا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ کے ہمراہ اتوار کے روزسعودی عرب کا خفیہ دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔
اس ملاقات کے دوران امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو بھی موجود تھے۔ اسرائیلی میڈیا کے دعوے کے مطابق اسرائیلی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کسی بھی اسرائیلی وزیر اعظم کا پہلا دورہ تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے بحیرہ احمر کے نیوم جزیرے پر محمد بن سلمان نے پانچ گھنٹے تک ملاقات کی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ موساد کے چیف یوسی کوہن بھی موجود تھے۔
اسرائیلی وزیر اعظم اور موساد چیف کے سعودی عرب کے دورے سے متعلق اسرائیل یا امریکی اور سعودی حکومت کی جانب سے کوئی تصدیقی بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم یہ رپورٹس اس وقت سامنے آئی جب ٹویٹر صارفین نے دعویٰ کیا کہ اتوار کو تل ابیب سے سعودی جزیرے نیوم کی جانب ایک پرائیویٹ جیٹ نے اُڑان بھری تھی۔ جس سے یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ یقینا اسرائیلی اور سعودی حکمرانوں کے درمیان کوئی خفیہ ملاقات ہوئی ہے۔
پومپیو کی جانب سے آج سوموار کے روز بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے گزشتہ رات ہونے والی بات چیت بہت تعمیری رہی ہے۔ تاہم انہوں نے اسرائیلی لیڈر کی اس ملاقات کے دوران موجودگی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ مائیک پومپیو نے اسرائیل کے دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے لیے سات خلیجی ممالک کا دورہ کیا ہے۔
جس دوران وہ سعودی عرب بھی گئے۔ پومپیو نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ان کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات بہت اچھی رہی، جس میں سیکیورٹی اور معاشی شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر زور دیا گیا اس کے علاوہ خلیج میں ایرانی اثر و نفوذ کو روکنے پر بھی بات چیت کی گئی۔ سعودی ویژن 2030ء اور انسانی حقوق سے متعلق اصلاحات بھی زیر بحث آئیں۔