سوشل اکاﺅنٹس کی بندش کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنی سوشل میڈیا کمپنی لانچ کرنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ٹوئٹر‘فیس بک‘انسٹاگرام اور دیگر کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹس بلاک کیئے جانے کے بعد اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ اور ایپ لانچ کرنے کا اعلان کردیا ہے. ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے ارب پتی کاروباری شخصیات میں سے ہیں اور ان کے کاروباری ادارے ٹرمپ آرگنائزیشن کے تحت ان کے بے شمار کاروبار چل رہے ہیں مگر ان کا خاندانی کاروبار زمینوں کی خریدوفروحت اور کنسٹرکشن کا ہے اس کے علاوہ وہ دنیا میں ہوٹلزاور گالف کورسزکے بھی مالک ہیں .
ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا کے ساتھ منسلک رہے ہیں اور ایک زمانے میں وہ ایک امریکی ٹیلی ویژن چینل کی میزبانی کرتے رہے ہیں اس کے علاوہ انہوں نے کتابوں کی پبلشنگ کی بھی کوشش کی ‘ٹوئٹرپر اکاﺅنٹ بلاک ہونے سے پہلے انہوں نے آخری پیغام میں انہوں نے ٹوئٹرپر تنقید کی انہوں نے اپنی ٹوئٹس میں کہا کہ ٹوئٹربلاشبہ نجی کمپنی ہے تاہم سیکشن 230کے تحت حکومتوں سے ”تخائف“موصول کرتی ہے انہوں نے مبہم الفاظ میں دھمکی دی کہ وہ اس پر غور کریں گے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میری پشین گوئی ہے جلد یہ کمپنیاں اپنے انجام کو پہنچیں گی اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس کے ساتھ بات کررہے ہیں جلد آپ خوشخبری سنیں گے اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ وہ جلد ایک ایسا سوشل میڈیا پلیٹ فارم لانچ کرنے پر غور کررہے ہیں جو مکمل طور پر ”آزاد“ہوگا.
قبل ازیں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹرپیغام میں کہا تھا کہ وہ نو منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری تقریب میں شرکت نہیں کریں گے صدر ٹرمپ کے اس اقدام سے انتقالِ اقتدار کی صدیوں پرانی روائت ٹوٹ جائے گی جس کے مطابق سبکدوش ہونے والے صدر، نو منتخب صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرتے تھے. دارالحکومت واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر 6جنوری کو کی جانے والی چڑھائی کے دو دن بعد کی جانے والی ٹوئٹ میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ حلف برداری تقریب میں شریک نہیں ہوں گے اس اعلان سے صرف ایک دن پہلے انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں اعلان کیا تھا کہ وہ اب اپنا باقی وقت انتقالِ اقتدار کے عمل کو بہترین انداز میں مکمل کرنے میں گزاریں گے.
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ سے پہلے صدر اینڈریو جانسن نے نو منتخب صدر کی حلف برداری تقریب میں شرکت نہیں کی تھی صدر ٹرمپ 152 سال بعد پہلے ایسے صدر ہوں گے جو کہ نو منتخب صدر کی تقریب حلف برداری میں شمولیت اختیار نہیں کریں گے گزشتہ روز اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے اگرچہ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن نئے صدر ہوں گے مگر ان کا اصرار ہے کہ ان سے مبینہ فراڈ الیکشن کے ذریعے دوسری مدت چھینی گئی ہے.
صدر ٹرمپ کی اپنی انتظامیہ کے حکام کا جن میں سابق اٹارنی جنرل ولیم بار بھی شامل ہیں کہنا تھا کہ ان انتخابات میں بے ظابطگیوں کےالزامات کے پیچھے ثبوت نہیں ہیں صدر ٹرمپ کے اب تک کے وفادار ترین ساتھیوں میں شامل نائب صدر مائیک پینس نو منتخب صدر کی حلف برداری میں شریک ہوں گے. صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ مائیک پینس نے انہیں آخری وقت میں دھوکہ دیا ہے اگرچہ نو منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب کے منتظمین نے ابھی تک صدر ٹرمپ کے اعلان پر ردِ عمل ظاہر نہیں کیا تاہم انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وجہ سے اس تقریب میں شریک نہ ہوں.
بتایا جارہا ہے کہ مائیک پنس اور صدر ٹرمپ کے درمیان اختلافات انتخابات کے نتائج پر شروع ہوئے جس کے بعد غصے میں آکر صدر ٹرمپ نے نائب صدر مائیک پنس کے چیف آف سٹاف اور عملے کے دیگر اراکین کے وائٹ ہاﺅس میں داخلے پر پابندی عائد کردی‘یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں امریکی صدر چاہتے تھے کہ نائب صدر جو کہ سینیٹ کے سربراہ بھی ہوتے ہیں وہ کانگریس میں جوبائیڈن کی توثیق کے عمل کو روکیں تاہم نائب صدر مائیک پنس نے ایسا کرنے سے انکار کردیا امریکی ذرائع ابلاغ کا دعوی ہے کہ کچھ دنوں سے امریکی صدر اور نائب صدر کے درمیان بات چیت بھی بند ہے.