ٹیکس کم اکٹھا ہوتا ہے ، ملکی تعمیر و ترقی پر زیادہ رقم خرچ نہیں کرسکتے ، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کم ٹیکس اکٹھا ہونے کی وجہ سے ملک کی تعمیر و ترقی پر زیادہ رقم خرچ نہیں کرسکتے۔ تفصیلات کے مطابق فوری ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام ”راست” کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پوری دنیا میں سب سے کم ٹیکس اکٹھا کرتا ہے ، جہاں 22 کروڑ کی آبادی میں سے صرف 20 لاکھ لوگ ہی ٹیکس دیتے ہیں ، ان 20 لاکھ میں سے بھی 70 فیصد ٹیکس صرف 3 ہزار افراد دیتے ہیں ، جس ملک کا ریونیو نہ ہو وہ ترقی کیسے کرے گا؟ کم ٹیکس اکٹھا کرنے کے باعث انسانی ترقی پر زیادہ پیسہ خرچ نہیں کیا جاسکتا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے روپے پر بہت اثر پڑتا ہے، اسٹیٹ بینک کے اقدامات سے ترسیلات زر میں اضافہ ہوا، 5 ماہ میں کرنٹ اکاوَنٹ سرپلس میں چلا گیا، کرنٹ اکاوَنٹ سرپلس ہونے سے پاکستانی روپے کو استحکام ملا۔
انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے ذریعےغربت کے خاتمے کے لئے کام کررہے ہیں ، کیش اکانومی عوام کو فائدہ اٹھانے کی راہ میں رکاوٹ ہے ، راست پروگرام ڈیجیٹل پاکستان کی طرف اہم قدم ہے ، راست پروگرام پر اسٹیٹ بینک کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔

اس موقع پر پاکستان کے پہلے فوری ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام ’’راست‘‘ کا اجراء کردیا، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا کہ ملک بھر میں ڈیجیٹل بینکنگ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، سمندرپار پاکستانی اب تک 70 ہزار روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کھول چکے ہیں، سرکاری ادائیگیوں میں بھی مشکلات کا خاتمہ ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق فوری ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام ’’راست‘‘ کے اجراء کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیراعظم عمران خان نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان وژن کا مقصد غریب طبقے کو معاشی سرگرمیوں میں حصہ داربنا ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مالی لین دین کو محفوظ اور شفاف بنایا جاسکے گا، نظام سے سرکاری ادائیگیوں میں غیرضروری تاخیر اور مشکلات کا خاتمہ ہوگا۔ نئے نظام سے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو بھی فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ راست نظام سے کرپشن کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔
گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا کہ ملک بھر میں ڈیجیٹل بینکنگ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ سمندرپار پاکستانی اب تک 70 ہزار روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کھول چکے ہیں۔مزید برآں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر رضا باقر نے کہا کہ پاکستان عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ مالی سپورت پروگرام کی بحالی کے لیے مذاکرات کر رہا ہے اور کورونا وائرس کے برے اثرات کے باوجود معیشت میں بہتری کے لیے پرامید ہوں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک کانفرنس میں رضا باقر نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ مارکیٹ اور دنیا کے لیے اچھی خبر ہوگی کیونکہ ہم پروگرام کو بحال کر رہے ہیں۔دونوں فریقین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور پاکستان کو جی ڈی پی کی کم شرح بڑھانے کی ضرورت ہے۔پاکستان اور آئی ایم ایف دونوں ملک میں آئی ایم ایف کی مدد سے معاشی اصلاحات پر کام کر رہے ہیں جس میں خاص کر ٹیم کی وصولی، معیشت کے استحکام اور مالی خسارے کو ختم کرنا ہے۔