کورونا وائرس کی پاکستان آنے والی چینی ویکسین سے متعلق اہم انکشاف سامنے آ گیا

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا کے وار جاری ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر کورونا کے مریض جان کی بازی ہار رہے ہیں جبکہ ہزاروں افراد کورونا کا شکار ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے کئی کمپنیوں نے ویکسین بنائی جس کے اثرانداز ہونے کی شرح ایک دوسرے سے مختلف تھی۔
حال ہی میں کورونا ویکسین چین سے پاکستان پہنچی تھی جس کے بعد عوام میں تھوڑا ریلیف دیکھنے میں آیا تھا تاہم اب اس ویکسین سے متعلق ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی حفاظتی ٹیکہ جات کے حکام نے چین کی جانب سے پاکستان کو موصول ہونے والی سائنو فارم ویکسین کے حوالے سے ایس او پیز جاری کر دی ہیں۔ پاکستانی حفاظتی ٹیکہ جات حکام کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایس او پیز میں کہا گیا کہ چینی ویکسین سائنو فارم 60 سال سے زائد العمر افراد کو نہیں لگائی جاسکتی، پاکستان میں 60 سال سے زائد العمر طبی عملے کو ایسٹرا زینیکا ویکسین کا انتظار کرنا ہوگا۔
اس بابت معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ 60 سال سے زائد العمر افراد کے لیے ایسٹرا زینیکا اور دیگر ویکسینز کا انتظار ہے، برطانوی کمپنی ایسٹرا زینیکا کی ویکسین اس مہینے میں پاکستان آ جائے گی۔ ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ محدود مقدار میں فائزر کمپنی کی میسنجر آر این اے ویکسین بھی مارچ میں آجائے گی جبکہ روسی ویکسین اسپوٹنک بھی اسی سہ ماہی میں دستیاب ہونے کا امکان ہے ، جو بوڑھے افراد کو لگائی جاسکتی ہے۔
یاد رہے کہ یکم فروری کو پاکستان چین کی جانب سے کورونا ویکسین موصول ہوئی تھی جس کے بعد گذشتہ روز سے ہی ملک بھر میں کورونا ویکسی نیشن مہم کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے میں فرنٹ لائن ورکرز کو ویکسین لگائی جائے گی۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں ایڈلٹ ویکسینیشن مراکز قائم کیے جا چکے ہیں اور ویکسینیشن کا تمام تر عمل ڈیجیٹل میکنزم سے کنٹرول کیا جائے گا۔ویکسینیشن کے پہلے مرحلے کے لیے پنجاب میں 189 اور سندھ میں 14 مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں 280، بلوچستان میں 44 اور اسلام آباد میں 14 ویکسینیشن سینٹر قائم کیے جا چکے ہیں۔ آزاد کشمیر میں 25 اور گلگت بلتستان میں بھی 16 مراکز کے ذریعے ویکسینیشن کی جائے گی۔