بھارت کی دہشتگردوں کی حمایت پر اقوام متحدہ نے پاکستان کا مؤقف تسلیم کرلیا

بھارت کی جانب سے دہشتگردوں کی حمایت پر اقوام متحدہ نے پاکستان کا مؤقف تسلیم کرلیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے سلامتی کونسل کے لیے تیار 27ویں رپورٹ جاری کردی جس میں پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کے اکٹھے ہونے پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے ڈوزیئر پیش کیا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ نے بھارتی حمایت سے دہشتگرد تنظیموں کے نئے اتحاد پر پاکستان کے مؤقف کی توثیق کی ہے یو این نے افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی اور جے یو اے کو پاکستان کے لیے لاحق خطرہ تسلیم کیا ہے۔رپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کے لیے تیار 27ویں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشتگرد گروپ تحریک طالبان گزشتہ سال 3ماہ میں 100 سے زائد سرحدپار حملوں میں ملوث رہا، تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے لاحق خطرات سے مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا، ٹی ٹی پی کے منقسم دھڑوں کو بھارت کی حمایت سے افغانستان میں دوبارہ اکٹھا کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 5دہشت گردگروپس نے جولائی اور اگست 2020میں ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی جن مین شہریار مسعود گروپ، جماعت الاحرار، حزب الاحرار، امجد فاروقی اور عثمان سیف اللہ گروپ (لشکرجھنگوی) بھی شامل ہیں، ٹی ٹی پی میں دیگردہشتگرد گروپوں کی شمولیت سے پاکستان اور خطے کو خطرات میں اضافہ ہوا۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی قوت اور پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں بھی اضافہ ہوا۔
تحریک طالبان پاکستان جولائی اور اکتوبر2020کےدوران100 سے زائد سرحدپار حملوں کی ذمے دار ہے، ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد 2500 سے6000 کے درمیان ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ سال پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو مراسلہ پیش کیا تھا جس میں تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار دہشتگرد گروپوں کی پشت پناہی سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267ویں سینگشنز کمیٹی نے بھی دونوں دہشتگردگروپوں کی نشاندہی کی تھی۔