بھارت کی بہت بڑی شکست، مودی سرکار نے چین کی فتح قبول کر لی؟

بھارت کی بہت بڑی شکست، مودی سرکار نے چین کی فتح قبول کر لی؟ بھارت اپنے زیر قبضہ رہنے والے لداخ کے بڑے علاقے سے دستبردار ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کیخلاف بھڑکیں مارنے والے بھارت نے چین کے ہاتھوں اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چین اور بھارت لداخ کے محاذ پر کشیدگی کم کرنے کیلئے رضامند تو ہوگئے، تاہم یہاں بھی بھارت کو ہی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
گزشتہ سال شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد چین کی فوج نے لداخ ریجن کے کئی کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اب چین نے بھارت کو ان علاقوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا۔ بتایا گیا ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان طے پائے معاملات کے تحت لداخ کے 10 کلومیٹر کے علاقے کو بفر زون قرار دیا گیا ہے۔
یہ علاقہ ماضی میں بھارت کے زیر قبضہ رہا ہے۔ 1962 کے بعد سے بھارتی فوج اس علاقے میں گشت کرتی رہی ہے۔

گزشتہ سال شروع ہونے والی سرحدی کشیدگی کے بعد چینی فوج نے پیش قدمی کرتے ہوئے شمالی لداخ میں دولت بیگ اولڈی کے قریب ڈپسانگ سیکٹر میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پار کرکے 15 سے 18 کلو میٹر تک علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اب دونوں ممالک کے درمیان ہوئے معاہدے کے تحت بھارت کو اس علاقے میں گشت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یوں چین 58 سال بعد مقبوضہ کشمیر کے اس علاقے سے بھارت کا قبضہ ختم کروانے میں کامیاب ہوگیا۔
بتایا گیا ہے گزشتہ روز بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی اپنے بیان میں چین کے زیر کنٹرول شمالی لداخ کے علاقے کا کنٹرول واپس لینے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا، جبکہ انہوں نے گزشتہ سال اپریل سے پہلے والی پوزیشن کی بحالی کا مطالبہ بھی نہیں کیا۔ ماہرین کی رائے میں بھارت گزشتہ 10 ماہ سے جو مطالبہ بار بار دہراتا آ رہا رہا تھا، اسے اب نہ دہرانے کا تو یہی مطلب بنتا ہے کہ بھارت شمالی لداخ میں چین کے زیر کنٹرول علاقے سے دستبردار ہوگیا۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی فوج پنگونگ جھیل کے کناروں سے پیچھے ہٹنا شروع ہو گئی ہے۔