عراق میں امریکی اڈاے پر حملہ ایک ہلاک ‘ 5 امریکی زخمی

امریکی قیادت میں قائم متعدد ممالک کی افواج کے اتحاد کا کہنا ہے کہ عراق کے کردستان کے علاقے میں متعدد راکٹس نے ایئربیس کو نشانہ بنایا جس میں ایک غیر ملکی شہری ہلاک اور 5 امریکی زخمی ہوگئے رپورٹ کے مطابق یہ حملہ قریب دو ماہ کے دوران پہلا واقعہ ہے جس میں عراق میں مغربی ممالک کی فوجی یا سفارتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا.
ادھر امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا اور ساتھ ہی عزم کا اظہار کیا کہ ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے گا انہوں نے مزید تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ واقعے میں متعدد امریکی کانٹریکٹر(کرائے کے فوجی)زخمی ہوئے ہیں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس طرح کے راکٹ حملوں میں ایک امریکی شہری کے قتل سے عراق میں بڑے پیمانے پر بمباری مہم کا آغاز ہوسکتا ہے.
عراقی اور مغربی سیکیورٹی ذرائع نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ شہر کے ایئرپورٹس کی سمت میں کم از کم تین راکٹ فائر کیے گئے جہاں غیرملکی افواج کا ایک بین الاقوامی اتحاد عسکریت پسند گروپ داعش سے لڑ رہا ہے اتحادی فوج کے ترجمان کرنل وین ماروٹو نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والا کنٹریکٹر عراقی نہیں تھا تاہم متاثرہ شہری کی قومیت کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات نہیں بتا سکتے.
جہاں عراق نے داعش کے خلاف 2017 کے آخر میں فتح کا اعلان کیا تھا وہیں اس اتحاد کو 3 ہزار 500 فوجیوں تک کم کردیا گیا ہے جن میں سے 2500 امریکی ہیں واضح رہے کہ اس حملے کی ذمہ داری ”اولیا الدم“ (خون کے نگہبانوں) نامی گروپ نے قبول کی ہے گزشتہ سال بھی اس طرح کے ایک درجن کے قریب گروہ سامنے آئے تھے جنہوں نے راکٹ حملوں کے دعوے کیے تھے تاہم امریکی اور عراقی سیکیورٹی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ وہ ایران کے حامی گروپس، جیسے حزب اللہ اور اسائب اہل الحق کے فرنٹ گروپس ہیں.
اربیل کے مضافاتی علاقوں میں دو دیگر راکٹ رہائشی علاقوں پر آکر گرے اربیل کے محکمہ صحت کے سربراہ ڈیلووان جلال نے اے ایف پی کو بتایا کہ کم از کم پانچ شہری زخمی ہوئے ہیں اور ایک کی حالت تشویشناک ہے کردستان کے علاقے کی وزارت داخلہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ متعدد راکٹوں نے اس شہر کو نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے ایک تفصیلی تفتیش شروع کی ہے جس میں شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مزید ہدایات تک گھروں میں ہی رہیں.
رپورٹ میںبتایا گیا ہے کہ حملے کے بعد ایئرپورٹس کے چاروں طرف تعینات سیکیورٹی فورسز اور ہیلی کاپٹرز کو شہر کے اطراف میں پرواز کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے علاوہ ازیں عراقی صدر برھم صالح نے ٹوئٹ کرکے حملے کو دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ اس سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا. خود مختار کرد علاقے کے وزیر اعظم مسرور بارزانی نے اس حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی انٹیلی جنس کے دو ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ خودمختار کرد علاقے سے ہی کیا گیا تھا مغربی فوجی اور سفارتی مقامات پر 2019 کے آخر سے اب تک درجنوں راکٹس اور سڑک کے کنارے نصب بم دھماکے کیے گئے ہیں جس میں غیر ملکی اور عراقی دونوں اہلکار ہلاک ہوئے ہیں.