سعودی عرب میں کورونا کیسز کی صورت حال تشویشناک ہو گئی ہے

سعودی عرب میں کورونا کیسز تشویشناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے سعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے کہا ہے کہ ان دنوں سعودی عرب میں کورونا وبا کے حالات اپریل 2020 سے ملتے جلتے لگ رہے ہیں۔ وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کی پابندی ناگزیر ہے۔اُردو نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ سال رواں کے شروع سے کورونا وائرس کے نئے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے۔
اعدادوشمار ایسے ہیں جیسا کہ گزشتہ برس ان دنوں ریکارڈ پرآئے تھے۔انہوں نے کہا کہ آج کل جو حالات ریکارڈ پر آرہے ہیں۔ وہ کورونا وبا کی شروعات سے بڑے ملتے جلتے ہیں۔ ان دنوں وبا کے خطرات کا شعور اور اس سے نمٹنے کے لیے آگاہی بڑھی ہے۔ اس کے باوجود ہر روز کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے۔
العبد العالی نے کہا کہ تمام مقامات پر بھیڑ افسوسناک ہے، یہ لاپرواہی وبا کے پھیلنے کا باعث نہ بن جائے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ ایام کے دوران نازک کیسز بھی بڑھ رہے ہیں جیسا کہ اپریل 2020 میں سامنے آئے تھے۔وزارت صحت نے کہا کہ فی الوقت نئے کیسز بڑھ جانے سے تشویشناک دور سے گزر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ نئے کیسز دارالحکومت ریاض میں ہورہے ہیں۔ واضح رہے کہ کنگ سعود یونیورسٹی ریاض میں انتہائی نگہداشت کے شعبے کے پروفیسر ڈاکٹر ناصر توفیق نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ’کووڈ 19 کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث رمضان کے دوران مساجد میں باجماعت نمازیں عارضی طور پر معطل کیے جانے کا فیصلہ ممکن ہے۔
ڈاکٹر ناصر توفیق نے کہا کہ ’اس کا امکان ہے کہ مساجد میں باجماعت نمازیں عارضی طور پر معطل کر دی جائیں تاہم نہیں چاہتے کہ طویل عرصے تک لوگوں کو مساجد جانے سے روکا جائے‘۔ ڈاکٹر ناصر توفیق نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کورونا ایس او پیز کی سختی سے پابندی اور ہر شخص فرض شناسی کا مظاہرہ کریں تاکہ مزید پابندیوں کے نفاذ سے بچا جا سکے۔ متعدی امراض کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر وایل باجھموم نے کہا کہ دراصل مشکل یہ ہو رہی ہے کہ کورونا ویکسین لینے والے حد سے زیادہ مطمئن ہو رہے ہیں اور ان کا یہ غیرمعمولی اطمینان ہی کورونا وائرس کی منتقلی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
ڈاکٹر وایل نے مزید کہا کہ فی الفور حالات معمول پر نہیں آ سکتے۔ ہم سب کو ایس او پیز کی مکمل پابندی کرنا ہوگی اور وبا کے خاتمے کے اعلان تک لاپروائی سے بچنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین لینے والے پابندی کریں اور حد سے زیادہ مطمئن نہ ہوں۔ غیرمعمولی اطمینان وائرس کی منتقلی کے حوالے سے بہت زیادہ پرخطر ہو سکتا ہے۔