علی سدپارہ سمیت دیگر کوہ پیماؤں کی لاشیں نکالنے میں مشکلات کا سامنا

پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ سمیت دیگر کوہ پیماؤں کی لاش نکالنے کے لیے کوششیں کی جاری ہیں تاہم ابھی تک وہاں موجود کوہ پیمائوں کی ٹیم کو کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کے ٹو پر لاپتہ پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ سمیت 2 غیر ملکی کوہ پیمائوں جان سنوری اور جے پی موہرکی لاشیں مل تو گئی ہیں تاہم ان لاشوں کو بوٹل نیک پر 300 میٹر گہری کھائی سے باہر نکال کر کیمپ تھری تک لانے میں دشواری کا سامنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کیمپ 4 کی بلندی 8000 میٹر سے زائد ہے جہاں پر آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز کی پرواز ممکن نہیں ہے ، تینوں لاشوں کو کھائی سے نکال کر کیمپ 3 تک لانے کیلئے انسانی وسائل پر بھی انحصار کرنا پڑے گا۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ جس کھائی میں لاشوں کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں تک رسائی بھی خطرے سے کم نہیں ہے تاہم محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ آج کے ٹو سرکرنے والے مقامی اور غیر مقامی کوہ پیمائوں کے ساتھ ان لاشوں کو کھائی سے نکال کر کیمپ 3 تک لانے کیلئے کوششوں میں مصروف ہیں ۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اگر تینوں لاشوں کو کیمپ تھری تک لانے میں کامیابی ملی تو وہاں سے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے انہیں بیس کیمپ ،سکردو پہنچایا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ امید کی جارہی ہے کہ جلد ان لاشوں کو کھائی سے نکال کر کیمپ تھری پہنچا دیا جائے گا۔