اقتدار ہاتھوں سے جاتا دیکھ کر اشرف غنی کی طالبان کو براہ راست مذاکرات کی پیش کش

اقتدار ہاتھوں سے جاتا دیکھ کر افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو براہ راست مذاکرات کی پیش کش کر دی ہے یہ پیشکش طالبان کے ملک کے بڑے حصے پر قبضے اور نیٹوکے سیکرٹری جنرل کی جانب سے کسی قسم کی مددسے معذوری کے اظہار کے بعد کی گئی ہے جن سے اشرف غنی نے آج ہی رابط کیا تھا. غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ہم طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں اور افغانستان کے تنازع کا فوجی حل نہیں ہے انہوں نے کہا کہ لویہ جرگہ نے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کی مثال قائم کی لویہ جرگہ کی جانب سے 5 ہزار طالبان کی رہائی امن کے لیے ہماری کوشش کا ثبوت ہے.

اشرف غنی نے کہا کہ آج کی جنگ خانہ جنگی نہیں بلکہ نیٹ ورکس کی جنگ ہے امریکہ اور نیٹو سے فوجی انخلا کا فیصلہ واپس لینے کو کبھی نہیں کہاانہوں نے کہا کہ ہم امریکہ اور نیٹو کے فوجی انخلا کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اب افغان عوام کو مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے. دوسری جانب عبدالغنی برادر کی سربراہی میں افغان طالبان کے وفد نے چین کا دورہ کیا افغان طالبان کے وفد نے چینی وزیر خارجہ سے ملاقات بھی کی ملاقات میں افغانستان کی موجودہ صورت حال اور امن عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا.
ادھر برسلزمیں موجود معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کے سیکرٹری جنرل جینزاسٹولنٹبرگ نے ٹوئٹرپیغام میں ایک مرتبہ پھر اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے تنازع طے کیا جائے. بیان میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں غیرملکی فوجیوں کے انخلا کے بعد سیکورٹی کی صورت حال بہت ہی چیلنج والی بن چکی ہے جینزاسٹولنٹبرگ نے اپنے بیان میں لکھا ہے کہ افغانستان میں سیکورٹی کی نازک صورتحال کے پیش نظر مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کے حل کی ضرورت ہے.
انہوں نے کہا کہ نیٹو اتحاد افغانستان کی فنڈنگ ، سویلین موجودگی اور بیرون ملک فوجیوں کی تربیت سمیت معاونت جاری رکھے گا نیٹو چیف نے افغان صدراشرف غنی سے ٹیلی فون پر بات چیت بھی کی ہے جس میں افغانستان کی تازہ صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے. اگرچہ اشرف غنی امریکا یا نیٹو سے مددمانگنے سے انکاری ہیں لیکن ایک امریکی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان صدر کی جانب سے واشنگٹن اور نیٹو سے فوجی مددفراہم کرنے کی بارہا درخواست کی گئی ہے مگردونوں فریقین نے اشرف غنی حکومت کو مددفراہم کرنے سے انکار کردیا ہے رپورٹ کے مطابق بڑی فوجی طاقتوں سے مایوسی کے بعد اشرف غنی طالبان کو براہ راست مذکرات کی پیشکش کررہے ہیں جبکہ گزشتہ سال وہ دوحہ میں منعقدہ مذکرات میں بھی شامل ہونے کے لیے تیار نہیں ہوئے تھے.
افغان امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اشرف غنی اور ان کی حکومت میں شامل کئی وزیروں نے صدر ٹرمپ کو ورغلا کر کیمپ ڈیوڈ مذکرات کو عین موقع پر منسوخ کروادیا تھا اشرف غنی ‘بھارت اور امریکی محکمہ دفاع کے کچھ عہدیدران نے ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ امریکا فاتح بن کر افغانستان سے نکلے گا لہذا وہ فتح کو معاہدے پر دستخط کرکے شکست میں نہ بدلیں.
ماہرین کا کہنا ہے یہ واضح ہوچکا ہے کہ اشرف غنی حکومت نے اپنے اقتدار کی خاطر معاہدے کو موخرکروایا یہی وجہ ہے کہ آج پینٹاگان یا وائٹ ہاﺅس ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں انہوں نے کہا کہ اگر اشرف غنی نیک نیتی سے 2018یا2019لویہ جرگہ منعقدکرکے معاملے کا حل نکالنے کی کوشش کرتے تو انہیں آج سبکی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا کل تک اشرف غنی اور ان کی حکومت نئی دہلی کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھا رہے تھے اور بھارتی خفیہ اداروں کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اڈاے فراہم کررہے تھے آج جب امریکی وزارت دفاع اور خفیہ ادارے ان کی حکومت کی رخصتی کی تاریخیں دے رہے ہیں تو کبھی وہ پاکستان سے مدد مانگ رہے ہیں‘کبھی ترکی‘نیٹو اور امریکا سے.
دوسری جانب پاکستان نے افغانستان سرحد چمن- اسپن بولدک کے ذریعے دو طرفہ تجارتی سرگرمیاں بحال کر دی ہیں یہ تجارت افغانستان کی جانب سے اب طالبان کے زیر انتظام چلائی جا رہی ہے تاجروں نے سرحدی تجارت کی بندش ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے. چمن اسپن بولدک سے تجارت کی اجازت ملنے کے بعددرجنوں ٹرک پاکستان سے افغانستان میں داخل ہوئے ہیںڈپٹی کمشنر چمن کیپٹن (ریٹائرڈ) جمعہ داد خان نے بتایا ہے کہ چمن اسپن بولدک سرحدی گزرگاہ روزانہ پانچ گھنٹے دو طرفہ تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھلی رہے گی اس کے ساتھ ساتھ مخصوص اوقات میں پیدل آمد و رفت بھی جاری رہے گی.
اس سے قبل پاکستان کی جانب سے سرحد کو صرف عام آمد و رفت کے لیے کھولا گیا تھا سرحدی گزرگاہ سے آمد و رفت کے لیے سفری دستاویزات اور کورونا وائرس ٹیسٹ کا سرٹیفکٹ لازمی ہے واضح رہے کہ اسٹریٹجک حوالے سے افغانستان کے اہم ضلع اسپن بولدک پر طالبان کے قبضے کے بعد سرحد کی بندش کے نتیجے میں ہزاروں افراد دونوں اطراف پھنس گئے تھے اور دوطرفہ تجارت معطل ہوکر رہ گئی تھی.
طالبان نے امریکی افواج کے انخلا کے دوران چمن اسپن بولدک سرحدی گزرگاہ پر قبضہ کر کے اہم ترین ہدف حاصل کیا تھا پچھلے ہفتے دونوں ملکوں کے سرحدی محافظوں کی فلیگ میٹنگ کے موقع پر افغان نیشنل آرمی کا کوئی وردی پوش نظرنہیں آیا بلکہ پاکستانی حکام سے فلیگ میٹنگ کے لیے طالبان کے نمائندے موجود تھے فلیگ میٹنگ میں دوطرفہ اور ٹرانزٹ ٹریڈ کی بحالی پر اتفاق ہوا تھا حکام کا کہنا تھاکہ سرحد پر موجود مال بردار ٹرکوں، کنٹینرز کی طویل قطاروں اور تاجروں کے نقصان کو دیکھتے ہوئے دونوں جانب سے تجارت کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا.
پاکستانی حکام کے لیے یہ فیصلہ مشکل تھا کیوں کہ طالبان کے قبضے کے بعد کسٹم کا باقاعدہ نظام نہیں چل رہا اور تجارت کی بحالی پر ہاتھ سے لکھی گئی رسیدوں پر انحصار کرنا پڑا سرحدی گزرگاہ سے ہونے والی تجارت پر کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس طالبان حاصل کر رہے ہیں چمن اسپن بولدک سرحدی گزرگاہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمد و رفت اور تجارت کا ایک اہم ذریعہ ہے افغان حکومتی اعداد وشمار کے مطابق اس راستے سے یومیہ 900 ٹرکوں کی آمد و رفت ہوتی ہے.