ملک بھر میں انیس برس بعد مردم و خانہ شماری کا آغاز

لاہور (سکائی نیوز) پاکستان میں پہلی بار مردم شماری کا آغاز 1951 میں کیا گیا ، آخری بار مردم شماری 1998 میں کی گئی تھی ملک بھر میں انیس سال بعد مردم و خانہ شماری کا آغازہوگیا ، لاہورمیں پنجاب اسمبلی اور کراچی میں برنس روڈ پر عمارت کو 001 شمار کر دیا گیا ۔ ہر مکان ، دکان ، فلیٹ ، مسجد ، مدرسہ ، خیمہ ، کشتی اور غار کی گنتی ہوگی ، پہلے مرحلے میں خانہ شماری ہوگی جبکہ اٹھارہ مارچ سے مردم شماری شروع کی جائے گی ۔ انیس سو اٹھانوے کے بعد ملک کے چاروں صوبوں میں بیک وقت مردم اور خانہ شماری شروع پہلے 3 دن خانہ شماری ، 18 مارچ سے مردم شماری ہو گی ۔ پنجاب اسمبلی کی عمارت پر ایک نمبر لگا کر خانہ شماری کا آغاز کیا گیا ۔ ڈپٹی سپیکر شیرعلی گورچانی کا کہنا تھا مردم شماری کا کریڈٹ سپریم کورٹ کو جاتا ہے ، کمشنر ادارہ شماریات عارف انور بلوچ نے بتایا پہلے مرحلے میں تیس ہزار فیلڈ فورس نے کام شروع کردیا ۔ کراچی میں صدر مملکت ممنون حسین نے مردم اور خانہ شماری مہم کا آغاز کیا ، شہر قائد میں پاک فوج اور پولیس کی اہلکار خانہ شماری کے عملے کے ساتھ ہیں ۔ خیبر پختونخوا کے ضلع اٹک میں چیف ادارہ شماریات آصف باجوہ نے عوام سے بھرپور تعاون کی اپیل کی ۔ کوئٹہ میں کمشنر شماریات بلوچستان حسن خان بلیدی نے بریفنگ دی ۔ پہلے مرحلےمیں پنجاب کے 16 ، سندھ 8 ، کے پی 14 اور بلوچستان کے 15اضلاع میں مردم شماری ہوگی ۔ خانہ شماری کے دوران ہر مکان ، دکان ، فلیٹ ، مسجد ، مدرسہ جیل ، ہسپتال اور یتیم خانہ ، سٹرکچر ، خیمہ ، کشتی اور غار کی گنتی ہوگی ۔ ملک کو ایک لاکھ 68 ہزار بلاکس میں تقسیم کیا گیا ، مردم شماری کا پہلا کالم مرد ، دوسرا خواتین ، تیسرا خواجہ سراؤں کیلئے مختص ہے ، مردم اور خانہ شماری کیلئے ایک لاکھ 18 ہزار اہلکار جبکہ 2 لاکھ فوجی بھی فرائض انجام دے رہے ہیں ۔