اپنی ماں کو کھانے والے جاندار

لاہور: ( ٹیسکو نیوز ) آپ نے ہارر فلموں میں ایسی کئی کہانیاں دیکھی ہونگی جس میں انسان ایک دوسرے کو یا کوئی جانور اپنی ہی جنس کے دوسرے جانور کو کھاتے ہیں ، آج ہم آپ کو حقیقی زندگی کی ایسی ہی مثال سے آگاہ کرتے ہیں جس میں جاندار وںکی ایک قسم اپنی ماں کو کھا جاتی ہے ۔یہ جاندار بغیر ٹانگوں کے زمین پر رینگنے والے لمبے کیڑے نما جانور ہیں جنہیں کیچوا کہا جاتا ہے ،ایک عام مشاہدہ ہے کہ یہ بچے پیدا ہونے کے فوراً بعد اپنی ماں کے جسم پر گردش کرنے لگتے ہیں جب اس سلسلے میں تحقیق کی گئی اور ان کی حرکات و سکنات پر غور کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ یہ بچے دراصل اپنی ماں کی جلد کو کھاتے ہیں۔

یہ اس کی جلد کو چھلکوں کی طرح چھیل اور نوچ کر کھاتے ہیں۔اپنے ہی خاندان کو کھانے کی ایک اور مثال شارک کی ایک انواع میں بھی دیکھی گئی جسے ’’سینڈ ٹائیگر شارک ‘‘کہا جاتا ہے ۔اس شارک میں انڈے ماں کے جسم کے اندر ہی افزائش پاتے ہیں، حتیٰ کہ ان انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں۔ یہ سارا عمل ماں کے جسم کے اندر ہی وقوع پذیر ہوتا ہے ۔انڈوں سے بچے نکلنے کے بعد کوئی ایک بچہ جو قدرتی طور پر مضبوط اور طاقتور ہوتا ہے ، ان انڈوں کو کھانا شروع کردیتا ہے جن سے ابھی بچے نہیں نکلے ہوتے ۔ اسکے بعد ان بچوں کی باری آتی ہے جو نسبتاً کمزور اور چھوٹے ہوتے ہیں۔یہ ایک طاقتور بچہ تمام انڈوں اور دیگر بچوں کو کھا کر اپنی افزائش کا مقررہ وقت پورا کرنے کے بعد ماں کے جسم سے باہر نکل آتا ہے ۔گویا یوں کہا جائے کہ شارک کے یہ بچے پیدائش کے وقت سے ہی کمزور اشیا کو کھانے کی تربیت حاصل کرچکے ہوتے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔