ایف آئی اے اور پی سی بی میں اختلاف نہیں، بکیوں تک بھی پہنچیں گے: وزیر داخلہ

اسلام آباد: ( ٹیسکو نیوز) سپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اور پی سی بی میں کوئی اختلاف نہیں، صرف فکسرز ہی نہیں، بکیوں تک بھی پہنچیں گے، وزیر داخلہ چودھری نثار کی جارحانہ اننگز، کہتے ہیں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، سوشل میڈیا باز نہ آیا تو سخت ترین اقدام کریں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے شہر اقتدار میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سپاٹ فکسنگ جیسے معاملات سے پاکستان کے امیج کو نقصان پہنچتا ہے، ایف آئی اے کو کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں، میڈیا ٹاک سے فارغ ہو کر ایف آئی اے اور پی سی بی سے میٹنگ کروں گا اور مل کر کام کرنے کا طریقہ کار وضع کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فکسنگ کے تانے بانے بیرونی ممالک تک جاتے ہیں اور اس معاملے کا صرف کھلاڑیوں نہیں بلکہ بکیز تک پیچھا کریں گے۔

سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سارے عالم اسلام کا معاملہ ہے، مشترکہ لائحہ عمل کے لئے جمعے کو مسلم ممالک کے سفیروں کو بلانے کا فیصلہ کیا ہے، گستاخانہ مواد شائع کرنے والے باز نہ آئے تو سخت ترین اقدام کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بارے میں کیا اقدام اٹھایا جائے گا یہ وقت آنے پر بتائیں گے، دھمکیاں نہ دی جائیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت کے احاطے میں وکلاء کی جانب سے ایک کانسٹیبل پر تشدد کیا گیا ہے جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے اسلام آباد کی عدالتوں کو سکیورٹی فراہم کرنے سے معذرت کر لی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی بنا دی ہے۔ وزیر داخلہ نے وکلاء سے درخواست کی کہ وہ تشدد کی روش ترک کریں اور سکیورٹی فراہم کرنے والے اہلکاروں کا احترام کریں اور قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان میں احتساب اس روز ممکن ہو گا جب وکیل اپنے گروہ میں موجود قانون شکن وکلاء کے خلاف فیصلہ کریں گے۔ سیاسی جماعتیں اپنے قانون شکن کارکنوں کا احتساب کریں گی اور ججز اور میڈیا کے لوگ بھی اپنے اپنے کرپٹ ساتھیوں کا احتساب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وسیع تر قومی احتساب کیلئے ڈپارٹمنٹل احتساب کو یقینی بنانا ہو گا۔

ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ چودھری نثار علی وزیر اعلیٰ سندھ اور شرجیل میمن کے بیانات پر بھی خوب گرجے برسے۔ شرجیل میمن کے بارے میں بولے کہ اگر وہ پوتر اور بے گناہ تھے تو دو سال کہاں رہے؟ صفائی پیش کرنے اور سوچنے میں انہیں دو سال کیوں لگے؟ چودھری نثار نے وزیر اعلیٰ سندھ کا نام لئے بغیر کہا کہ کوئی صوبہ کسی وزیر اعلیٰ کی جاگیر نہیں کہ وہ فیصلہ کرے کہ کس وفاقی ادارے نے کام کرنا ہے اور کس نے نہیں۔

– See more at: http://urdu.dunyanews.tv/index.php/ur/Pakistan/380276#sthash.FfACuhMy.dpuf