ریکو ڈیک منصوبہ،عالمی بینک نے بین الاقوامی کمپنی کے خلاف پاکستان کے پیش کردہ شواہد کو قبول کرلیا: اشتر اوصاف

( ٹیسکو نیوز ) اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ عالمی بینک کے ثالثی ٹربیونل نے ریکو ڈیک منصوبے کے سلسلے میں کان کنی کی لیز کا معاہدہ معطل ہونے کے معاملے پر بین الاقوامی کمپنی کے خلاف پاکستان کے پیش کردہ شواہد کو قبول کرلیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا ہے کہ آئی سی ایس آئی ڈی نے ٹیتھیان کاپر کمپنی کے مالیاتی دعووں کو خارج کرنے کی پاکستانی درخواست مسترد کردی ہے لیکن کیس میں ابھی مزید پیش رفت کا امکان ہے۔اٹارنی جنرل کے دفتر میں وضاحت دیتے ہوئے اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ 20 مارچ کو ٹربیونل کی جانب سے جاری کیے گئے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ وہ ریکارڈ کے حوالے سے پیش کیے گئے پاکستانی شواہد کو قبول کرتے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ٹربیونل نے ٹیتھیان کاپر کمپنی کے دعوں کو بھی مسترد نہیں کیا ہے۔پاکستان کی درخواست میں ثالثی ٹربیونل سے درخواست کی گئی تھی کہ ریکوڈیک میں کان کنی کا معاہدہ چونکہ کرپشن کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا لہذا مدعی (ٹی سی سی) نقصان کے ازالے کا مطالبہ نہیں کرسکتی۔ٹی سی سی کی درخواست بلوچستان مائننگ اتھارٹی کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد پاکستان اور ٹی ٹی سی کا یہ تنازع ثالثی عدالت تک پہنچا۔خیال رہے کہ جنوری 2013 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان حکومت اور آسٹریلوی مائننگ کمپنی کے درمیان ریکوڈک معاہدے کو ملکی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔جس کے بعد آسٹریلین کمپنی نے اپنے شیئرز ٹی سی سی کو فروخت کردیئے تھے۔یاد رہے کہ ٹی سی سی نے ثالثی ٹربیونل میں ریکوڈک منصوبے کے لائسنس میں 40 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کے نقصان کا دعوی کیا تھا۔ریکو ڈک بلوچستان کے علاقے چاغی میں ایک چھوٹا سا صحرائی شہر ہے جو ٹیتھیان کاپر بیلٹ کے اوپر واقع ہے اور دنیا میں سونے کے کاپر کے پانچویں بڑے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔اٹارنی جنرل نے وضاحت دی کہ ثالثی عدالت کا حالیہ حکم اس کیس کا حتمی فیصلہ نہیں بلکہ یہ حکم نامے کے سلسلے کا ایک حصہ ہے۔واضح رہے کہ ستمبر 2015 میں پاکستان نے ٹربیونل میں درخواست دائر کی تھی کہ ٹی سی سی کی جانب سے معاہدے میں کرپشن کے الزامات کو خارج کیا جائے، اس حوالے سے پاکستان سے تفصیلی شواہد بھی ٹربیونل میں پیش کیے تھے۔اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ ثالثی ٹربیونل کا اس فیصلے سے کرپشن کا مرحلہ ختم جبکہ ‘کوانٹم’ مرحلے کا آغاز ہوجائے گا، اور اس مرحلے میں مدعی (ٹی سی سی)لائسنس کی معطلی کے لیے درکار معاوضے کا کیس پیش کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آئی سی ایس آئی ڈی کے جاری کردہ کسی بھی حکم کو چیلنج کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔