سابق طالبہ نے 17 سال بعد پنجاب یونیورسٹی کیخلاف قانونی جنگ جیت لی

لاہور ( جیوعوام ) پاکستان اور کینیڈا کی دوہری شہریت رکھنے والی سابق طالبہ وجیہہ عروج نے 17 برس قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ کیا تھا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک سابق طالبہ نے 17 سال بعد پنجاب یونیورسٹی کیخلاف طویل قانونی جنگ جیت لی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں پنجاب یونیورسٹی کو حکم دیا ہے کہ وہ 38 سالہ وجیہہ عروج کو 8 لاکھ روپے ہرجانے کے طور پر ادا کرے۔ خیال رہے کہ وجیہہ عروج نے 17 سال قبل یونیورسٹی کیخلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ وجیہہ عروج نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی نے انہیں ایم اے انگریزی کے ایک پرچے میں غیر حاضر قرار دے کر پورے امتحان میں فیل قرار دیدیا تھا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس معاملے پر یونیورسٹی نے اپنی غلطی ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے ہی قصور وار قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ وہ پیپر کے دوران غیر حاضر تھی۔ اس کے بعد کردار پر سوالات اٹھائے گئے جس سے وہ بہت دلبرداشتہ ہوئی اور یونیورسٹی انتظامیہ کیخلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر دیا۔ اب 17 سال تک عدالتوں کے چکر کاٹنے کے بعد رواں ماہ عدالتی فیصلہ وجیہہ عروج کے حق میں آ تو گیا ہے مگر اب ان کی عمر 21 برس نہیں بلکہ 38 برس ہے۔ وجیہہ عروج اس وقت کینیڈا میں اپنے خاوند اور تین بچوں کے ساتھ مقیم ہیں۔