آئین شکنی کیس: خصوصی عدالت نے ملک بھر میں پرویزمشرف کے نام پرموجودجائیداد کی تفصیلات طلب کرلیں

اسلام آباد (جیوعوام) سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کیخلاف آئین شکنی کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے جائیداد ضبطگی کے حکم کیخلاف پرویزمشرف کی اہلیہ اوربیٹی کے اعتراضات پر مبنی درخواستوں کی سماعت کے دوران ملک بھر میں پرویزمشرف کے نام پرموجودجائیداد کی تفصیلات طلب کرلیں جبکہ صہبا مشرف اور عائلہ مشرف کی درخواستوں پراستغاثہ(وزارت داخلہ ) کو نوٹس جاری کرکے تحریری جواب بھی طلب کرلیا ہے .عدالت نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ ایک ماہ میں ملزم کی تمام ملکیت کی تفصیلات جمع کرائی جائیں اورِ پراپرٹیز کی تمام تفصیلات کی کاپی بھی فریقین کوفراہم کی جائے . چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس یاور علی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جمعہ کو درخواستوں کی سماعت کی جبکہ بینچ کی ممبرجسٹس طاہرہ صفدر بنچ میں موجود نہیں تھیں۔عدالت نے استغاثہ سے جائیداد ضبطگی کے خلاف اعتراضا ت پرجواب طلب کرتے ہوئے پراسیکیوٹراکرم شیخ ایڈووکیٹ سے قانون نکات پرمعاونت طلب کرلی .عدالت کا کہنا تھا معاونت کی جائے کہ کیا پرویز مشرف کی جائیداد ضبطگی کیلئے مزید کسی عدالتی حکم کی ضرورت تونہیں؟عدالت نے پراسیکیوٹراکرم شیخ کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانونی نکات پر اپنا موقف آئندہ سماعت سے ایک ہفتہ قبل جمع کرائیں۔ دوران سماعت دلائل دیتے ہوئے اکرم شیخ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے ٹرائل فوری طورپرمکمل کرنے کا حکم دیا۔توقع ہے کہ ٹرائل جلد ازجلد مکمل ہوگا ان کا کہنا تھا کہ پرویزمشرف علاج کا بہانہ بنا کربیرون ملک گئے اور بیرون ملک جا کرپرویزمشرف کی ڈانس کرتے ہوئے ویڈیوسامنے آئی۔جسٹس یحیی آفریدی نے استفسار کیا کہ آپ کیسے امید کرسکتے ہیں کہ ملزم ایسی صورتحال میں آپ کے سوالات کاجواب دے گا،اکرم شیخ نے جواب دیا کہ ملزم عدالت کی حدود سے باہرجاچکا ہے,عدالت چاہے تو کسی کو بھی طلب کرسکتی ہے۔جسٹس یحیی آفریدی نے کہاکہ پرویزمشرف کے دائمی وارنٹ پہلے سے ہی جاری ہیں۔ قبل ازیں کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو مشرف کے وکیل فیصل چوہدری کے جونیئر نے درخواست کی کہ فیصل چوھدری کراچی میں ہیں اس لئے سماعت ملتوی کی جائے۔جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ ٹھیک ہے, اس میں کوئی مسئلہ نہیں لیکن کچھ معاملات ہیں جن پر آج بات ہوگی۔ انہوں نے اکرم شیخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پہلی سماعتوں پر کچھ اعتراضات فائل کئے گئے تھے ان پر نوٹس جاری کرتے ہیں,سوال یہ ہے کیا یہ بنچ ملکیت مکمل طور پر ضبط کرنے کاحکم دیے سکتا تھا۔اکرم شیخ نے کہاکہ ملکیت کی تفصیل جمع کرانے کاحکم پہلے تمام ضلعی ریونیو افسران کو دیاگیا تھا ۔ملکیت ضبطگی اس کیس میں بہت اھم ہے کیونکہ یہ کیس الگ نوعیت کا ہے۔اس کیس میں ایک سابق آرمی افسر کے خلاف غداری کیس چل رہا ہے,13 دسمبر 2013 سے کیس چل رہا ہے اورکئی ہفتے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی گئی ۔جسٹس یحی آفریدی نے کہاکہ ملزم کے تو دائمی وارنٹس پہلے ہی جاری ہوچکے ہیں تو اکرم شیخ نے کہاکہ وارنٹ جاری کرنے سے زیادہ اختیارات اس عدالت کو حاصل ہیں۔ملزم تین ھفتے کے لئے باھر علاج کرانے کا کہہ گیا تھا لیکن اب اس نے امریکہ میں ڈانس بھی کیا وہ بیمار تو نہیں لگ رہا.ان کا کہنا تھا کہ سماعت مزید جاری رکھنے سے پہلے بنچ کوپورا ہونا چاھیئے جس پر عدالت نے ان کے موقف سے اتفاق کیا ۔جسٹس یحیی آفریدی کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی تمام گزارشات کو سنیں گے۔اکرم شیخ نے کہاکہ مجھے امید ہے کہ جسٹس آفریدی کی سربراہی میں سپیشل کورٹ اپنا مکمل کرے گی۔اس دوران حکام وزارت داخلہ نے رپورٹ جمع کراتے ہوئے بتایا گیا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں ملکیت کی تمام تفصیل جمع کرائی اورپھر الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی مشرف کی پراپرٹی کی تفصیلات جمع کرائی گئیں۔ جسٹس یحیی آفریدی نے کہاکہ وزارت داخلہ نے جو رپورٹس دی ہیں حکام آئندہ سماعت پراس حوالے سے مکمل تیاری کرکے آئیں۔انہوں نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے عدالتی احکامات پر مکمل عمل در آمد کیا ہے تو وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا تھا کہ ملکیت کی معلومات کے لئے وزارت نے متعلقہ اداروں کوخطوط لکھے کہ تفصیلات فراھم کی جائیں تاہم کچھ معلومات آئیں اور کچھ نہیں آئیں۔تاہم ھمیں معلوم ہوا کہ بیگم صہبامشرف اور مشرف کی دوگاڑیاں ان کے نام کی سامنے آئی ہیں۔جسٹس یحیی آفریدی نے کہاکہ وزارت داخلہ کے حکام ملزم کی تمام املاک کی تفصیل صحیح طریقے سے جمع کرائیں۔انہوں نے استفسار کیا کہ اس کے لئے کتنا وقت درکار ہوگا۔آپ کو اس لئے ایک ماہ کا وقت دیتے ہیں کہ ملزم کی تمام پراپرٹیز کی تفصیل جمع کرائیں۔عدالت کا اپنے حکم میں کہنا تھا کہ جو رپورٹ جمع کرائی جائیگی اس کے ساتھ جمع شدہ رپورٹس بھی منسلک کی جائیں۔اس موقع پر اکرم شیخ نے استدعا کی کہ ملزم کی جو املاک لندن میں ہیں اس پر بھی کوئی حکم دیا جائے ۔جسٹس یحیی آفریدی نے کہا آپ جو چاھتے ہیں تحریری طور پر عدالت میں جمع کرائیں. ان کا کہنا تھا کہ اگر دفاع کے وکیل آئندہ سماعت پر نہیں آ سکتے تو پہلے بتا دیں۔اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ ایک بار مجھے علم ہوا کہ گیارہ کو عدالت سماعت کرے گی تو میں شہر سے باہر تھا لیکن فورا اسلام آباد آگیا ۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزیدسماعت 5 مئی تک ملتوی کردی