حوثی یمن کا حصہ ہیں مگر مسئلہ ایران کی مداخلت ہے:جی سی سی

ریاض (روزنامہ نیاوقت ) سعودی عرب کے شہر ریاض میں خلیج تعاون کونسل کے وزرا خارجہ اجلاس میں خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی پر غور کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پربحرین کے وزیرخارجہ الشیخ احمد بن خالد آل خلیفہ نے اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔خلیجی وزرا خارجہ اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ حوثی یمن کا حصہ ہیں مگر اصل مسئلہ ان کے ایران سے روابط اور ایران کی شہ پرقومی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا ہے۔بحرینی وزیرخارجہ نے کہا کہ ریاض میں ہونے والے وزرا خارجہ اجلاس میں ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔ الشخ احمد بن خالد آل خلیفہ نے کہا کہ خلیجی ملکوں نے ایران کے ساتھ تعلقات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے ہیں۔ تمام خلیجی ممالک ایران کے ساتھ ایک اچھے ہمسائے کے طور پر رہنے کے خواہاں ہیں۔ مگر ایران نے خطے میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے دہشت گردوں کی مدد کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ ہمارے اور ایران کے درمیان سب سے بڑا یہی اختلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ حوثی یمن کا حصہ ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایران انہیں استعمال کررہا ہے۔بحرینی وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ منامہ تہران کے ساتھ تعلقات کے قیام کا خواہاں ہے مگرایران نے متحدہ عرب امارات کے جزائر غاصبانہ تسلط جما رکھا ہے۔قبل ازیں خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل عبدالطیف الزیانی نے کہا کہ ریاض میں ہونے والے اجلاس میں شاہ سلمان کے مشترکہ خلیجی ویژن پر بھی غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک نے مدخل الھذلی کو یمن کے لیے نیا مندوب مقرر کیا ہے۔