تحریک انصاف پارلیمنٹ کو نہیں مانتی‘ اجتماع میں شرکت کی دعوت کیسے دیں: فضل الرحمن

اسلام آباد ( ٹیسکو نیوز ) جمیعت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ عمران خان واضح کریں وہ پارلیمنٹ کو مانتے ہیں یا نہیں۔ دنیا میں امن تب قائم ہوگا جب انسانی حقوق کی پاسداری ہوگی۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کا سربراہ تعینات ہونا پاکستان کیلئے ایک اعزاز ہے۔ برہان وانی کی شہادت نے تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونکی۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں اور فوجی عدالتوں کی قانون سازی دو علیحدہ علیحدہ مسئلے ہیں۔ ہم سے اتفاق کے باوجود حکومت اپوزیشن اور دیگر جماعتوں کے دبائو میں آ گئی۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے صد سالہ اجتماع سے متعلق انہوں نے بتایا کہ تین روزہ عالمی اجتماع میں وزیراعظم نواز شریف سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی، جو جماعت پارلیمنٹ کو تسلیم نہیں کرتی اسے کیسے دعوت دے سکتے ہیں۔ عمران خان پہلے واضح کریں کہ وہ پارلیمنٹ کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہاکہ فوجی عدالتوں کے معاملے پر قانون امتیازی ہونے پر حمایت نہیں کی۔ قانون سازی میں امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔ لادین طاقتیں اس لئے توہین رسالت کی مرتکب ہو رہی ہیں کیونکہ ہم نے اسلام کی طاقت کو حجروں تک محدود کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ پتہ نہیں وزیراعظم اب کس بیانیہ کی بات کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کو تین مرتبہ دینی جماعتوں اور اتحاد تنظیمات مدارس کا مسلح جدوجہد سے متعلق متفقہ بیانیہ پیش کر چکا۔ افسوس پھر بھی نجانے وزیراعظم کیوں لاعلم ہیں۔ ریاست اعتراف کرے دینی مدارس و مذہبی جماعتیں اپنی ریاست اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دریں اثنا مولانا طاہر اشرفی کو جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن کی میڈیا ٹاک میں انٹری مہنگی پڑ گئی۔ مولانا طاہر اشرفی بیٹھنے لگے تو مولانا فضل الرحمن کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔ فضل الرحمن نے مولانا طاہر اشرفی سے کہا آج مجھے تھوڑی سی بات کرنے دیں۔علاوہ ازیں پاکستان علماء کونسل کے ترجمان مولانا محمد اشفاق پتافی نے کہا ہے کہ بعض عناصر مختلف مذہبی جماعتوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کیلئے بے بنیاد پراپیگنڈا کر رہے ہیں ۔ دارالعلوم زکریا کے پروگرام میں مولانا فضل الرحمن اور مولانا طاہر محمود اشرفی کے درمیان کوئی بد مزگی نہیں ہوئی ۔ دونوں پانچ گھنٹے تک پروگرام میں اکٹھے رہے۔