مقبوضہ کشمیر : مودی کی آمد پر ہڑتال‘ مظاہرے‘ متعدد گرفتار‘ حملے میں پولیس افسر ہلاک….

سرینگر + مظفر آباد ( جیوعوام ) بھارتی وزےراعظم نرےندر مودی کی جموں سرینگر نیشنل ہائی وے پر 9.2 کلو میٹر طویل سرنگ کے افتتاح کیلئے انکی آمد کے خلاف رےاست بھر مےں احتجاجی ہڑتال رہی۔ تمام بازار دکانےں بند رہیں۔ کنٹرول لائن کے دونوں جانب احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ پوری حریت قیادت گھروں میں مسلسل نظربند رہی۔ کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا۔ نوٹیہ میں گرنیڈ حملے میں ایک پولیس افسر شمیم احمد مارا گیا جبکہ سی آر پی ایف کے 4 اور 10 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 2 کی حالت نازک ہے۔ تفصیلات کے مطابق مودی کی آمد کے سلسلے مےں غےر معمولی سکیورٹی انتظامات کےے گئے تھے۔ حریت قائدےن علی گےلانی، مےر واعظ اور ےاسےن ملک نے مودی کی آمد کے خلاف احتجاجی ہڑتال کی اپےل کی تھی۔ ہڑتال سے معمولات زندگی معطل ہو کر رہ گئے۔ پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں کو پوری طرح سے سیل کرکے مختلف مقامات پر چیکنگ پوائنٹ، عارضی بینکر تعمیر کئے گئے تھے جبکہ صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے سراغ رساں اداروں سے وابستہ سربراہان نے از خود سکیورٹی کا جائزہ لیا۔ پوری وادی کو فوجی چھاﺅنی میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ ادھر جنوبی کشمےر کے قصبے پلوامہ مےں گزشتہ اےک ہفتے مےں گرفتار ہونے والوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی ہے۔ اتوار کوآری ہل پلوامہ میں تیسری بار چھاپوں کے دوران پتھراﺅ کے الزام میں ایک 65سالہ شہری سمیت مزید 15 افرادکو گرفتار کیا گیا جس کے ساتھ ہی اس علاقے سے گرفتار کئے گئے افراد کی تعداد 50 ہو گئی ہے۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کو مسلسل گھر میں غیر قانونی طور پر نظربند رکھ کر اپنے ایک قریبی ہمسایہ میاں بشیر احمد کی اہلیہ کا نماز جنازہ پڑھانے کے لئے انکے ہاں جانے کی اجازت نہیں دی۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے تحریک حریت کے رہنما عبدالغنی سمیت 5 قیدیوں کی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ بھارتی فوج کے ہاتھوں نوجوان اور بے گناہ شہریوں کی شہادت پر وادی میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔کٹھ پتلی وزےراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرانے کے اپنے موقف کو پھر دہراتے ہوئے کہا ہے تشدد کیلئے ریاست میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا پتھراﺅ کرنے والے نوجوانوں کی نہ صرف کونسلنگ کی جائیگی بلکہ ان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے سرکار اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کریگی۔ سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کشمیری عوام نے ایک طویل جدوجہد کرکے عزت نفس اور خود اعتمادی حاصل کی ہے اور موجودہ حکمران جماعت پی ڈی پی فرقہ پرستوں کے ساتھ مل کر اس جدوجہد کا سودا کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا 2016ءمیں کشمیری قوم نے جو کچھ دیکھا اور سہا اس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے کہا جب بھی بھارت کشمیر میں الیکشن کیلئے پر تولتا ہے تو اس کی افواج اور مقامی حامی ظلم کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہیں۔ جموں و کشمیر فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے ریاستی عوام کے اس موقف کو ایک بار پھر دہرایا کہ بھارتی حکمرانوں کی توسیع پسندانہ اور عوام مخالف ایجنڈا کے باوجود تحریک آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔ بھارتی وزیراعظم کے دورہ کشمیر کے خلاف آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں بھی احتجاج کیا گیا اور کشمیری مہاجرین اور شہریوں نے سنٹرل پریس کلب کے باہر مظاہرہ بھی کیا۔ مظفر وانی چوک میں حزب المجاہدین، پاسبان حریت سمیت دیگر جماعتوں کی شرکت سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جو علمدار چوک گھڑی پن جا کر اختتام پذیر ہو گئی۔ عوامی اتحاد پارٹی نے انجینئر رشید کی قیادت میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ مقبوضہ کشمیر کے خلاف سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انجینئر رشید نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا نریندر مودی نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرایا اور وہ بھارت کو مکمل طور پر ایک ہندو ریاست بنانا چاہتے ہیں۔