وزیراعلیٰ پنجاب کی بیدیاں روڈ پر دھماکے کی مذمت ،رپورٹ طلب

لاہور(جیوعوام ) لاہور بیدیاں روڈ خود کش دھماکے میں حملہ آور پیدل تھا جس نے مردم شماری ٹیم کی ویگن کے قریب آکر خود کو اُڑا لیا ۔ ویگن طے شدہ راستے سے ہٹ کر کیوں روکی گئی ؟ ویگن ڈرائیور عثمان کو حساس اداروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ۔ واقعے کی ابتدائی رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کر دی گئی ۔ کمشنر لاہور نے کہا دھماکا سیکورٹی لیپس نہیں ہے ، بیدیاں روڈ کے مانانوالہ چوک میں مردم شماری ٹیم کی وین کے قریب خودکش دھماکا ہونے پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے فوری رپورٹ طلب کرلی ۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے ابتدائی رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کی جس کے مطابق حملہ آور پیدل آیا اور اس نے وین کے پیچھے پہنچ کر خود کو دھماکے سے اُڑا لیا ۔ دھماکے میں 10 کلو بارود اور بال بیئرنگ استعمال ہوئے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا چہرے اور بالوں سے حملہ آور مقامی معلوم نہیں ہوتا ۔ خودکش حملہ آور ازبک ہوسکتا ہے اور اس کی عمر 21 سال سے 22 سال ہے ۔ ذرائع کے مطابق دہشتگردی کا نشانہ بننے والی ویگن کے ڈرائیور عثمان کو حساس اداروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے ۔ ڈرائیور عثمان جنرل ہسپتال میں معمولی زخمی ہونے کی وجہ سے زیر علاج تھا ۔ ذرائع کا کہنا ہے ویگن طے شدہ شیڈول سے ہٹ کر ایک دکان پر پرزہ خریدنے کے لیے روکی گئی ۔ ڈرائیور سے گاڑی ہنگامی طور پر روکنے کی تحقیقات کی جائیں گی ۔ ادھر دھماکے کے بعد علاقے میں 3 کلومیٹر تک سرچ آپریشن کیا گیا ۔ آپریشن میں نادرا کی ٹیم بھی شامل تھی جس نے بائیو میٹرک سسٹم کے تحت شہریوں کی تصدیق کی ۔ اس دوران 16 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے ۔ دھماکے کے بعد علامہ اقبال ایئرپورٹ کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے اور انہیں ملک کا امن خراب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ۔ کمشنر لاہور عبداللہ خان سنبل کا کہنا ہے دھماکا سیکورٹی لیپس نہیں تھا ۔ کمشنر لاہور نے کہا دھماکے کی نوعیت کا فرانزک سائنس کی حتمی رپورٹ آنے پر بتایا جاسکے گا