ماہرین نے زیادہ کام اور کم نیند کو مضر صحت قرار دے دیا

لاہور(ٹیسکو نیوز) کم نیند لینے والوں کی پیداواری صلاحیت میں اوسطاً 40 سے 45 فیصد کمی آتی ہے،نیند کی کمی کو معمول بنالینا ناصرف دماغ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا بلکہ قوتِ مدافعت کو کم کر دیتا ہے۔ ماہرین صحت زیادہ کام اور مکمل نیند نہ لینے کو صحت کیلئیے مضر قراردیتے ہیں،یہ ناصرف طبعیت میں چڑچڑاپن،بےزاری اور سستی کا باعث ہے بلکہ پٹھوں کوبھی متاثر کرتی ہے۔ محققین کے مطابق کم نیند لینے والوں کی پیداواری صلاحیت میں اوسطاً 40 سے 45 فیصد کمی آتی ہے،نیند کی کمی کو معمول بنالینا ناصرف دماغ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا بلکہ قوتِ مدافعت کو کم کر دیتا ہے،چار گھنٹوں سے کم سونا ان عصبی خلیات کو متاثر کرتا ہے جوانسان میں انہماک اور توجہ کا تعین کرتے ہیں۔ کم نیند لینے والے پٹھوں کی بیماری،زیابطیس،بلڈ پریشر،امراض قلب اور موٹاپے کے مرض کا شکار ہوسکتے ہیں،نیشنل سلیپ فائونڈیشن کے سروے کے مطابق 48 فیصد لو گ گاہے بگاہے بے خوابی کا شکار ہوتے ہیں جبکہ 22 فیصد کو روازانہ نیند کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،چڑاچڑاپن،لوگوں سے بلاوجہ جھگڑنا کم نیند لینے کی علامات ہی ہیں جبکہ طلبہ پڑھائی پر بھی نیند پوری نہ ہونے کے باعث توجہ نہیں دےپاتے۔ تحقیق کے مطابق دوران نیند ہپو کیمپس (دماغ کا یادداشت ذخیرہ کرنے والا حصہ) متحرک ہوجاتا ہے جس سے دماغ کو یادداشتوں کو مختصر سے طویل عرصے تک یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ نوکری ہو یا پڑھائی بہتر کارکردگی کیلئیے آٹھ سے چھ گھنٹے کی نیند ضرورلیں یہ عمل دماغی طاقت کو بڑھانے اور نئے عصبی خلیات بننے میں مدد دیتا ہے