سلوینیا کے قبرستان میں قبر کے ڈجیٹل کتبے مقبول

ماریبور: (سکائی نیوز) یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک سلوینیا کے ایک قبرستان میں ڈجیٹل اسکرین کا حامل قبر کا کتبہ لگایا گیا ہے جو دنیا میں اپنی نوعیت کا واحد جدید ترین کتبہ بھی ہے۔
سلوینیا کے شہر ماریبور میں واقع پوبریجے قبرستان میں ایک 48 انچ کی جدید ترین اسکرین لگائی گئی ہے جو انٹرایکٹو ہے اور ہر قسم کے موسمیاتی اثرات اور ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ بنائی گئی ہے۔ قبر پر آنے والے افراد کتبے کو ٹچ سے چلاسکتے ہیں اور اس میں موجود ویڈیوز اور تصاویر دیکھ سکتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی شخص قبر کے پاس جاتا ہے اس میں نصب سینسر اس کی موجودگی کو محسوس کر کے انٹرایکٹو اسکرین آن کردیتا ہے۔
کتبے کے اندر مرنے والے کی یاد میں کئی اشیا شامل کی گئی ہیں۔ جن میں تصاویر اور ویڈیو موجود ہیں جبکہ لوگ چاہیں تو مرنے والے کی یاد میں مضامین اور ناول بھی لکھ سکتے ہیں، ڈجیٹل کتبے بنانے والی کمپنی بایو انرجیا کے سربراہ ساسو ریڈوونک کا کہنا ہے کہ جب کتبے کے پاس کوئی نہیں ہوتا تو یہ صرف اس کا نام ، پیدائش اور مرنے کی تاریخ ظاہر کرتا ہے۔ اس لیے یہ توانائی کم خرچ کرتا ہے اور کتبہ طویل عرصے تک آن رہتا ہے۔
کتبے کی تیاری میں یونیورسٹی آف ماریبور سے وابستہ کمپیوٹر ماہر پروفیسر میلان زورمن سے مدد لی گئی ہے۔ اب قبر کے کتبے کو ایک اسمارٹ فون ایپ سے بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ذریعے دور رہ کر بھی لوگ کتبے سے آنے والی آواز اور تصاویر کو دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ اس کتبے کی قیمت 3 ہزار یورو رکھی گئی ہے جو پاکستانی 3 لاکھ 35 ہزار روپے کے برابر ہے۔ کمپنی کے مطابق اب تک کئی افراد نے اس کتبے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔