پاکستان کی سالمیت کیخلاف کام کرنے والوں سے رعایت نہیں ہو گی: وزیر دفاع

اسلام آباد: (ٹیسکو نیوز) وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ قطعی طور پر کسی مسلم ملک کیخلاف جارحیت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یمن تنازعے کا حصہ نہیں بنیں گے، راحیل شریف کو جب این او سی دیا جائے گا تو ہاؤس کے نوٹس میں لیکر آؤں گا، بائی پاس نہیں کیا جائے گا۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ایران کے تحفظات دور کر رہے ہیں اور کریں گے، کلبھوشن یادیو کو مارچ میں گرفتار کیا گیا تھا، ساڑھے تین ماہ سے کل بھوشن یادیو پر مقدمہ چل رہا ہے، قوانین کے مطابق کل بھوشن یادیو کو سزا دی گئی۔ خواجہ آصف نے مزید بتایا کہ کل بھوشن یادیو سزا کیخلاف اپیل کرسکتا ہے۔قطعی طور پر کسی مسلم ملک کیخلاف جارحیت کا حصہ نہیں بنیں گے، خواجہ آصف کا اعلان، کہتے ہیں یمن تنازعے کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سالمیت کیخلاف کام کرنے والے سرحد پار ہوں یا اندر کے لوگ، ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں ہو گی، ہر قیمت پر اپنی سرزمین کا دفاع کریں گے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ کل بھوشن کا اعترافی بیان ریکارڈ پر موجود ہے، پاکستان کی سالمیت کیخلاف کام کرنے والے کے ساتھ رعایت نہیں ہو گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے یہ انکشاف بھی کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے راحیل شریف کی خدمات دو سال پہلے مانگی گئی تھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوجی اتحاد کے فرقہ ورانہ عزائم نہیں ہیں اور پاکستان کسی ملک کے خلاف نہیں ہو گا، ایسا ہوا تو ہم اتحاد سے علیحدہ ہو جائیں گے تاہم اسلامی ممالک کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مئی میں اس اتحاد کے ٹی او آرز کو حتمی شکل دینے کیلئے پیش رفت ہو گی