مشال کا قتل :چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لے لیا

اسلام آباد+ مردان (جیوعوام + نیا وقت رپورٹ) چیف جسٹس آف پاکستان نے مردان واقعہ کا ازخود نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی خیبر پی سے 36 گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے مردان واقعہ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مشال کے بیہمانہ قتل پر افسردہ ہوں۔ وزیر اعظم نے مردان کی یونیورسٹی میں طالب علم کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ مجرموں کو باور کرایا جائے کہ انکے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائیگی۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے۔ پولیس کو ہدایت کردی ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے، پوری قوم کو اس واقعہ کی مذمت کرنی چاہئے۔ انہوں نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم مشال کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کا اپنے تعزیتی پیغام میں کہنا ہے کہ ہجوم کی طرف سے طالب علم کے قتل پر بے حد دکھ ہوا‘ ریاست قانون ہاتھ میں لینے والوں کو کسی صورت برداشت نہیں کریگی۔ وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ کوئی باپ اس خوف سے بچے کو تعلیم سے محروم نہ کرے کہ اس کی نعش واپس آئیگی۔ قوم برداشت اور قانون کی حکمرانی کیلئے اتحاد کا مظاہرہ کرے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مذہب کے نام پر جرائم کرنے والے لوگوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ مذہبی بنیاد پر بنائے گئے قوانین کے غلط استعمال کو مسترد کرتے رہیں گے۔ افسوس ایک مسلمان نوجوان مشال کو مذہب کے نام پر قتل کیا گیا۔ پیپلز پارٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ قوانین کے غلط استعمال کو روکا جائے۔ مذہب کے نام پر تشدد کی حوصلہ افزائی کرنے والی سوچ دہشتگردی کی بنیادی وجہ ہے۔پولیس پراسیکیوٹر رفیع خان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ آٹھ طلبا ہفتے کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہفتے کو 5 مزید طلبا کو گرفتار کیاگیا ہے۔ دوسری طرف مشال خان کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آ گئی، جس میں انکشاف ہوا ہے کہ موت گولی لگنے سے ہوئی، ادھر خیبر پی کے حکومت نے قتل کی جوڈیشل انکوائری کی سمری پشاور ہائیکورٹ کو بھجوا دی ہے۔ ترجمان خیبرپی کے حکومت مشتاق غنی نے کہا ہے کہ وزیراعلی پرویز خٹک نے مشال قتل کی جوڈیشل انکوائری کی سمری پردستخط کر دیئے ہیں اور جوڈیشل انکوائی کے لئے جج نامزد کرنے کی سمری رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کو بھجوا دی ہے۔ پولیس نے ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کی گرفتاریوں کیلئے کارروائی تیز کر دی ہے۔ ڈی آئی جی مردان عالم شنواری کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں توہین مذہب کے شواہد نہیں ملے، ایف آئی آر میں نامزد 12 ملزمان سمیت100 کے قریب طلبا کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق طالب علم کے زیر استعمال تمام چیزوں اور میٹریل سے توہین مذہب کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ہے۔ علاوہ ازیں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے منتظم فیاض شاہ نے اپنے ہی رجسٹرار کے دستخط شدہ نوٹیفیکیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالب علم مشال خان کی یونیورسٹی سے معطلی کا نوٹیفکیشن انتظامیہ نے جاری نہیں کیا۔ رجسٹرار اور مجھے نوٹیفیکیشن سے متعلق لاعلم رکھا گیا۔ ذرائع کے مطابق فیاض شاہ نے کہا کہ یونیورسٹی کا سامنے آنے والا نوٹیفکیشن انتظامیہ نے جاری نہیں کیا اور اس میں کافی غلطیاں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا اگرچہ یہ نوٹیفکیشن اسسٹنٹ رجسٹرار کے دستخط سے جاری ہوا تاہم رجسٹرار کے علم میں یہ بات نہیں اور مجھے بھی اس سے متعلق لاعلم رکھا گیا۔انہوں نے کہا اس معاملے پر کمیٹی بنانے سے متعلق صرف فیصلہ ہوا تھا اور یہ فیصلہ بھی مشتعل طلبہ کو روکنے کیلئے کیا گیا تھا مگر اس اس دوران مشال خان کے قتل کا واقعہ ہوگیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق یونیورسٹی ملازم نے بتا یا کہ مشال اے این پی کا کارکن تھا جس کی لوگوں سے زیادہ نہیں بنتی تھی۔ اساتذہ نے اپنے طور پر معاملہ حل کرنے کی کوشش کی، کہیں سے اچانک توہین رسالت کی آواز آئی اور مجمع بنا تصدیق کیے جمع ہوگیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 8ملزموں کو 4روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو ویڈیو میں نشاندہی کے بعد گرفتار کیا گیا۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر نیل بونے نے عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم مشال خان کے قتل پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے اقوام متحدہ کو اس بات پر افسوس ہے کہ مشال کا قتل ایک تعلیمی ادارے میں ہوا اور قاتل ان کے ساتھی طالب علم ہیں۔ اقوم متحدہ کے نمائندے نے کہا پاکستان کو مشال کے قاتلوں کو قانون کے مطابق سزا دینی چاہیے۔ اسلام آباد میںسول سوسائٹی نے مشال خان کے حق میں مظاہرہ کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ مشال خان کے قتل کے خلاف احتجاج کا دائرہ بڑھاناہو گا اور مضبوط آواز پارلیمان میں بھی بلند کرنی ہو گی، مشال خان کوجلد انصاف دیا جائے اگر انصاف نہ ملا تو یہ ہمارے ملک پر سیاہ دھبہ ہو گا، پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہاکہ اگر ہم مشال ملک کی قتل پر احتجاج نہ کیا اور خاموش رہے تو ہم بھی قصور وار ہوں گے۔ توہین مذہب کا قانون غلط استعمال کیاجا رہاہے جن افراد پر توہین مذہب کے حوالے سے الزام ہو ادارے انکے خلاف کارروائی کریں نہ کہ چند افراد خود عدالت لگاکرجج بن جائیں اور لوگوںکو قتل کریں اگر اسکو روکا نہ گیا تو یہ ملک کو تباہی کی طرف لے جائے گا۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مشال خان کے دوست اور این ڈی یو یونیورسٹی کے طالبعلم کفایت نے کہا کہ اس پاکستان میں مشال کو انصاف نہیںملے گا مشال نے کبھی توہین رسالت نہیںکی ان کو منصوبے کے تحت قتل کیا گیا۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی واقعہ پر گہر ے رنج کا اظہار کیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ کسی پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگا نے والے خود توہین کے زمرے میں آتے ہیں، مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مشال کا قتل ہمارے معاشرے کیلئے شرمناک ہے۔ وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے مردان واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشال خان کے قتل کئے جانے کی ویڈیو دیکھ کر صدمہ ہوا ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پیغام جاری کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ مشال خان کے قتل میں مشتعل ہجوم کا خود منصف بننا ذہنی تنزلی اور پستی کا عکاس ہے اور کیا ہماری یہی پہچان ہے؟۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما سابق وزیراطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم کی ہلاکت کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے کا مطالبہ کردتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق،صوبہ اور یونیورسٹی تینوں خود اس میں مدعی بنیں،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرے،امن و امان قائم رکھنا صوبے کی ذمہ داری ہے،یہ واقعہ یونیورسٹی میں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں دن دیہاڑے ہوا ہے جن لوگوں نے یہ بھیانک اور گھنائونا جرم کیا ہے انہیں فوجی عدالتوں سے سزادلائی جائے۔ہفتہ کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز رشید نے کہا کہ جوڈیشل انکوائری کسی ایسے واقعہ کی کی جاتی ہے جس کے بارے میں یہ معلوم کرنا ہو کہ واقعہ کی وجوہات کیا ہیں اور پھر ان وجوہات کے ذمہ دار کون لوگ ہیں،یہ واقعہ یونیورسٹی میں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں دن دیہاڑے ہوا ہے،سب لوگوں نے اپنی آنکھوں سے ایک معصوم اور بے گناہ شخص کو درجنوں لوگوں کے ہاتھوں تشدد کے ذریعے زندگی سے محروم ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ مزید برآں پشاور بیورو رپورٹ کے مطابق جمعیت علمائے اسلام( س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے واقعہ کو ظلم قراردیتے ہوئے کہا ہے اسلام سنی سنائی باتوں پر کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ جامعہ اشرفیہ میں تقریب دستار بندی کے بعد میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ کسی بھی انسان کو تصدیق کے بغیر توہین رسالت پر قتل نہیں کیا جا سکتا،کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے، کسی شخص کو توہین رسالت پر سزادینا ریاست کا کام ہے۔ انکا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت واقعہ کی تحقیقات کرائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں، مدارس کیخلاف پروپیگنڈا کرنیوالے اپنے تعلیمی نظام کا حال دیکھ لیں۔ انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے قائم نیشنل کمشن فار ہیومن رائٹس نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پی کے سے 24 اپریل تک تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے، آئی جی پولیس کو بھیجے گئے مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ توہین مذہب کے الزام پر قتل اور قانون کو ہاتھ میں لینا سنگین جرم ہے۔