سپریم کورٹ نے اورنج لائن ٹرین منصوبہ کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

اسلام آباد ( ٹیسکو نیوز) درخواست گزاروں کو اضافی تحریری دلائل جمع کرانے کی اجازت بھی دے دی، نیسپاک کی رپورٹ پر ماہرین کا جواب داخل کرانے کا حکم .. اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ کیس کی سماعت مکمل ہو گئی، فیصلہ محفوظ کر لیا گیا،عدالت کا نیسپاک وکیل کی رپورٹ پر ماہرین کوجواب داخل کرانے کا حکم، وکیل کامل خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا دہلی میں تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لیے زیر زمین میٹرو ٹریک بنایا گیا جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ نیسپاک کا منصوبے سے مفاد وابستہ ہے،کیا نیسپاک کی رپورٹ کوغیرجانبدارکہا جا سکتا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ اورنج لائن منصوبہ نہیں بنانا توآپ کی مرضی ہے،یہاں تو اورنج لائن منصوبہ بنتا ہوا نظرنہیں آ رہا،چاہیں تو رائیونڈ میں جا کر اورنج لائن ٹرین بنالیں،وکیل شاہد حامد نے کہا کہ دہلی میں میٹرو ٹرین 52 کلومیٹر زمین سے اوپر اور صرف 13 کلومیٹر زیر زمین ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ تعمیرات کے حوالے سے نیسپاک نے متعدد سائٹس کا جائزہ نہیں لیا جن سائٹس پرتعمیرات کاجائزہ نہیں لیا گیا وہاں عمارتوں کونقصان نہیں ہوگا،عدالت نے درخواست گزاروں کو بھی اضافی تحریری دلائل جمع کرانے کی اجازت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔