پانامہ کا قانونی ہنگامہ: 4 ماہ 3 دن میں 36 بار سماعت، مقدمہ 96 گھنٹے سنا گیا

اسلام آباد: (ٹیسکو نیوز) بڑے کیس کے بڑے فیصلے کی گھڑی آ گئی، عدالت عظمیٰ پانامہ کیس کا تیئس فروری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ بیس اپریل کو سنائے گی، تین مارچ دو ہزار سولہ سے آج تک کیس میں بہت سے موڑ آئے۔ تین مارچ دو ہزار سولہ کو پانامہ کا ہنگامہ شروع ہوا۔ اپوزیشن سیخ پا ہوئی اور وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگ لیا۔ نواز شریف نے مطالبہ رد کر دیا اور عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کر دیا۔ تاہم سپریم کورٹ نے معذرت کر لی۔ تحقیقاتی کمیشن کے ضوابط کی تشکیل کیلئے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی طویل نشستیں بھی ہوئیں لیکن بے سود رہیں۔ پھر تحریک انصاف سڑکوں پر آئی۔ دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی کال دی گئی تو پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی۔ اسی دوران، یکم نومبر کو سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کمیشن بنانے پر اتفاق کیا۔ تین نومبر دو ہزار سولہ کو باقاعدہ سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن کا کسی جماعت کے ضوابط پر متفق ہونا ضروری نہیں، وزیر اعظم کیخلاف الزامات کو دیکھنا ترجیح ہے، شواہد دیکھ کر کمیشن بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ ہو گا۔ پندرہ نومبر کو سماعت میں نیا موڑ آیا۔ وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل نے شریف خاندان کی قطر میں سرمایہ کاری سے متعلق قطری شہزادے کا خط عدالت میں پیش کر دیا۔ وزیر اعظم کے خاندان کی جانب سے قطری خط آیا تو پی ٹی آئی سینکڑوں دستاویزات لے آئی۔ اٹھارہ نومبر کو عمران خان کے وکیل حامد خان کیس سے الگ ہوئے۔ تیس نومبر کو پہلی بار نعیم بخاری نے پی ٹی آئی کی جانب سے دلائل دیئے۔ پانچ دسمبر کو حسین نواز کے وکیل نے لندن فلیٹس کی رجسٹریاں جمع کرائیں جس کے چار روز بعد چیف جسٹس ریٹائر ہوئے تو بینچ ٹوٹ گیا۔ اکتیس دسمبر دو ہزار سولہ کو نئے چیف جسٹس نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں نیا بینچ بنایا۔ پھر نیا سال آیا لیکن پرانا کیس چلتا رہا۔ تین جنوری کو وزیر اعظم، مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز نے وکیل بدل لئے۔ چار جنوری دو ہزار سترہ سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوئی۔ چھبیس جنوری کو حسین نواز نے ایک اور قطری خط اور جدہ فیکٹری کا ریکارڈ پیش کر دیا۔ یکم فروری کو جسٹس شیخ عظمت سعید کو دل کی تکلیف ہوئی تو سماعت ملتوی ہو گئی۔ 9 فروری کو فاضل جج کی صحتیابی کے بعد پانچ رکنی بینچ دوبارہ مکمل ہوا۔ یوں پندرہ فروری سے سماعت کا سلسلہ پھر چل پڑا۔ دوران سماعت حدیبیہ پیپر ملز مقدمے کا ذکر بھی آیا۔ 21 فروری کو نیب کے سربراہ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر نہ کرنے کا بیان دیا۔ عدالت عظمیٰ نے تیئس فروری کو سماعت مکمل کی اور فیصلہ محفوظ کر لیا۔