پانامہ کیس: سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے دیا

اسلام آباد: (جیوعوام) وزیر اعظم نواز شریف نااہلی سے بچ گئے، سپریم کورٹ نے پانامہ کیس میں اکثریتی رائے سے چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیدیا، مشترکہ ٹیم دو ماہ میں لندن فلیٹس سمیت تمام بے نامی جائیدادوں کی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گی، جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اختلافی نوٹ لکھے کہ وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے، نااہل قرار دینا چاہئے۔ اعصاب شکن گھڑیاں ختم ہو گئیں۔ بڑے کیس کا 540 صفحات پر مشتمل بڑا فیصلہ آ گیا۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم 60 دن میں تحقیقات مکمل کرے گی۔ حسن نواز اور حسین نواز سے تحقیقات کا اختیار ہو گا۔ ضروری ہوا تو وزیر اعظم کو طلب کیا جا سکے گا۔ پانچ رکنی بنچ نے اکثریتی رائے سے فیصلہ دیا۔ تین ججوں نے تحقیقاتی کمیشن بنانے کی سفارش کی جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اختلافی نوٹ لکھے کہ وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے، انہیں نااہل قرار دینا چاہئے، بچوں کی وضاحت بھی قبول نہیں۔ پانامہ کیس کے فیصلے کا آغاز ہی اختلافی نوٹ سے ہوتا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلے میں مافیا پر لکھے گئے مشہور ناول گاڈ فادر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ دولت کے ہر ذخیرے کے پیچھے جرم کی داستان چھپی ہوتی ہے، محض اتفاق ہے کہ عمران خان نے وزیر اعظم پر ایسا ہی الزام لگایا۔جسٹس گلزار احمد نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ وزیر اعظم کی ذمہ داری تھی کہ لندن فلیٹس سے متعلق عدالت اور قوم کو مطمئن کرتے، وزیر اعظم لندن فلیٹس کی ملکیت سے متعلق ایسا کرنے میں ناکام رہے، ایسی صورت میں عدالت محض تماشائی نہیں بن سکتی۔ جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ نواز شریف قومی اسمبلی کی نشست اور وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑ دیں۔