ہمارے پاس طاقت نہیں کہ انگریزوں کے دور کے قوانین بدل سکیں، چیف جسٹس

کوئٹہ: چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمیں صرف اور صرف قانون کے مطابق ذمہ داریاں نبھانی ہیں اور وکلا اس عدالتی نظام کی بنیاد ہیں جبکہ ہم عام قاضی نہیں ہیں۔ حیران ہوں کہ وہ قابل ججز کہاں گئے جن کے فیصلے موتیوں سے لکھے جاتے تھے اور ایسے ججز تھے کہ انکے فیصلے سپریم کورٹ آتے تو تبدیل نہ ہوتے تھے۔ محسوس کر رہا ہوں کہ ہم صلاحیتوں کو مطلوبہ معیار کے مطابق استعمال نہیں کر رہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اپنے خطاب میں مزید کہا بے انصافی پر مبنی معاشرہ نہیں چل سکتا اور کسی بھی معاشرے میں انصاف ہونا ضروری ہے۔ مقدمہ بازی معاشرے کی بیماری ہے لیکن ہم مرضی کے فیصلے نہیں کرتے بلکہ آئین اور قانون کے مطابق چلتے ہیں جبکہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ انصاف فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا فراہمی انصاف کی جدوجہد میں ہمارا ساتھ دینا ہو گا اور انصاف، عدل کی بنیادوں کو مضبوط نہیں کر پائے تو اللہ کے سامنے کیسے سرخرو ہونگے۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس طاقت نہیں کہ انگریزوں کے دور کے قوانین بدل سکیں۔

چیف جسٹس نے کہا اس قانون پر ہی عمل کرلیں تو انصاف کی جلد فراہمی ممکن ہوسکے گی۔ 40،40 سال مقدمے برداشت کرنیوالوں میں کوئی ایک تو متاثر ہو رہا ہے اور اپنے حق کیلئے 40 سال انصاف کا منتظر فرد کیا روز جیتا اور مرتا نہیں۔