سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی کم جونگ اِن سے خفیہ ملاقات کا انکشاف

نیو یارک: امریکی میڈیا نے خبر دی ہے کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پوم پےاو ایک خفیہ دورے پر شمالی کوریا گئے تھے جہاں انھوں نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کی تھی۔حکام نے بتایا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ملاقات کی تفصیلات طے کرنا تھا۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ پیونگ یانگ کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت ہوئی ہے۔

یہ غیرمتوقع اور خفیہ ملاقات امریکہ کا شمالی کوریا کے ساتھ 2000 کے بعد سے اعلیٰ ترین سطح پر رابطہ ہے۔ امریکی صدر نے یہ نہیں بتایا کہ بات چیت میں کون شامل تھا تاہم امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ مائیک پوم پےاو نے ایسٹر کے موقع پر شمالی کوریا کا خفیہ دورہ کیا تھا جہاں ان کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات ہوئی تھی۔

اس خفیہ ملاقات کے بارے میں زیادہ تفصیلات معلوم نہیں ہو سکیں تاہم واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس کا مقصد ٹرمپ کم سربراہی ملاقات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اخبار نے لکھا ملاقات اس کے فوراً بعد ہوئی جب صدر ٹرمپ نے پوم پےاو کو وزیرِ خارجہ کے طور پر نامزد کیا تھا۔ بعد ازاں خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی اس خبر کی تصدیق کی اور کہا کہ انھیں یہ بات سینیئر حکام نے بتائی ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب نے شام میں فوج بھیجنے کا عندیہ دے دیا

فلوریڈا میں صدر ٹرمپ نے جاپان کے وزیراعظم شِنزو آبے سے ملاقات کے موقع پر بتایا کہ ’ہماری اعلیٰ ترین سطح پر براہ راست بات چیت ہوئی ہے اور اس وقت پانچ مقامات زیر غور ہیں جہاں میری کم جونگ ان سے ملاقات ہو سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ ملاقات جون کے ابتدا میں یا اس سے کچھ دیر پہلے ہو سکتی ہے۔ جاپانی وزیراعظم شِنزو آبے نے شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات پر رضامند ہونے کے جرات مندانہ فیصلے کی تعریف کی۔

خیال رہے کہ جاپان کو خدشات ہیں کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان باہمی بات چیت کے منصوبے میں جاپان نظرانداز ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے جاپانی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران کہا کہ دونوں ممالک شمالی کوریا کے معاملے پر متحد ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپانی وزیراعظم کے دورۂ امریکہ کا ایک مقصد امریکی صدر کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ مغرب شمالی کوریا کے خلاف سخت موقف سے پیچھے نہ ہٹے۔