پاکستان تحریک انصاف اور نیب کا الائنس ہے، شہباز شریف کا الزام

پاکستان تحریک انصاف اور نیب کا الائنس ہے، شہباز شریف کا الزام مسلم لیگ ن کے ارکان نے کالی پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شرکت کی۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی ایوان میں موجود ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ملک کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ایک منتخب اپوزیشن لیڈر کو بغیر کسی الزام کے گرفتار کر لیا گیا اور یہ پاکستان تحریک انصاف اور نیب کا الائنس ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان جو کہ موجودہ وزیراعظم ہے دھاندلی کی پیدوار ہے۔13 مئی کو ہمارے خلاف دھاندلی کے پرچے کاٹے گئے لیکن ضمنی انتخاب میں سارا پول کھل گیا اور میری گرفتاری اس لئے عمل میں لائی گئی کہ انتخابات میں من مانے نتائج حاصل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا پہلی بار کسی باپ کے سامنے بیٹی کو گرفتار کیا گیا جبکہ نواز شریف بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر واپس آئے۔

پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر اسپیکر کا شکر گزار ہوں، بلاول بھٹو زرداری کا بھی شکر گزار ہوں، اسپیکر صاحب نے آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں نیب کارروائیوں اور اسمبلی اجلاس سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس میں مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مریم اورنگزیب، مائزہ حمید، کھیل داس، آصف کرمانی، جنید انوار چودھری، طاہرہ اورنگزیب شریک ہوئے۔ مسلم لیگ ن کے ارکان نے کالی پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شرکت کی۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف قومی ایئر لائن کی پرواز پی کے 652 سے اسلام آباد کیلئے روانہ ہوئے، نیب کی 2 رکنی ٹیم بھی شہباز شریف کے ہمراہ ہے۔ شہباز شریف کی ایئرپورٹ آمد سے پہلے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، اے ایس ایف حکام نے ایئرپورٹ پر غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند کر دیا۔ اے ایس ایف کے سپیشل کمانڈوز اور پولیس کی اضافی نفری تعینات تھی۔

ٕاپوزیشن لیڈر شہباز شریف اجلاس کے دوران سارجنٹ ایٹ آرمز کی نگرانی میں رہیں گے۔ اجلاس کا وقت ختم ہونے کے بعد اپوزیشن لیڈر نیب کی تحویل میں رہیں گے۔ اجلاس کے بعد شہباز شریف نیب حکام کی اجازت کے بغیر کسی سے نہیں مل سکیں گے۔ نیب کی ٹیم اجلاس کے بعد شہباز شریف کو دوبارہ لاہور منتقل کرے گی۔