اٹلی میں کورونا وائرس سے ایک ہی دن میں 133 ہلاکتیں

کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے خدشے کے پیش نظر کھیلوں کے کئی عالمی مقابلے بھی متاثر ہوئے ہیں ٹوکیو اولمپکس 2020 کی مشعل روشن کرنے کی تقریب یونان میں 12 مارچ کو منعقد ہو گی مگر اس میں تماشائی موجود نہیں ہوں گے. گذشتہ ہفتے جاپان کے وزیر برائے اولمپکس نے کہا تھا کہ کورونا کے پھیلاﺅ کے پیش نظر اولمپکس مقابلوں کا انعقاد رواں برس موسم سرما میں کیا جا سکتا ہے یاد رہے کہ یہ مقابلے اپنے اصل وقت کے مطابق موسم گرما میں ہونے ہیں.دوسری جانب فیفا اور ایشین فٹبال کانفڈریشن نے 2022 میں ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ مقابلے منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے یہ مقابلے رواں ماہ اور جون 2020 میں ہونا تھے فیفا کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور مکمل جائزے کے بعد اعلان کیا جائے گا کہ آیا شیڈول میں مزید تبدیلی ہو گی یا نہیں.ادھر ایران میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے ایران میں وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 237 ہو گئی ہے 9 مارچ تک ایران میں کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 7161 ہے جبکہ اب تک اس وائرس کا شکار 2394 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں.انڈیا کے شہربنگلور کی پولیس ایک ایسے شخص کی تلاش میں ہے جو ہسپتال سے فرار ہوگیا ہے ڈاکٹروں کو شک ہے کہ اس شخص کو کورونا وائرس لاحق ہے اور اسے دبئی سے واپسی کے بعد اتوار کے روز ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا حکام کے مطابق مریض کو ہسپتال اس لیے لایا گیا کیونکہ انھیں بخار ہو رہا تھا جو کہ کورونا کی علامات میں سے ایک ہے.تاہم اگلی صبح تک وہ ہسپتال سے غائب ہو چکا تھا ہندوستان ٹائمز کے مطابق مریض کے فرار ہونے سے چند گھنٹے قبل ہی ان کی اپنے لواحقین سے ملاقات ہوئی تھی اور انہوں نے اصرار کیا کہ مریض کو گھر جانے دیا جائے تاہم ڈاکٹرز نے اس کی اجازت نہیں دی تھی.کورونا وائرس سے بچاﺅ کے لیے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جونسن ایک ہنگامی میٹنگ منعقد کریں گے اور ممکنہ طور پر وائرس سے بچاﺅ کے لیے لوگوں کو الگ تھلگ رکھنے کے اقدامات متعارف کروائے جا سکتے ہیں‘چین میں کورونا وائرس کے صرف 40 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو کہ 20 جنوری سے اب تک کی کم ترین تعداد ہے‘جنوبی کوریائی حکام نے اب تک 69 کیسز رپورٹ کیے ہیں جو کہ دو ہفتوں میں سب سے کم اضافہ ہے‘یورپ میں اس وبا کے رکنے کے اب تک کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں اٹلی میں کیسز کی تعداد 7375 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ملک کے شمالی حصے میں ایک خصوصی الگ تھلگ علاقے کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جرمنی میں اب تک 1112 کیسز سامنے آ چکے ہیں.ملائیشیا اور تھائی لینڈ نے جس بحری جہاز کو کورونا وائرس کے خوف سے اپنے پاس لنگر انداز ہونے سے روک دیا تھا، اسے سنگاپور میں لنگر انداز ہونے کی اجازت دی جائے گی.جنوبی ایشیا کے ہر ملک میں اب کورونا وائرس کے کیسز کی تشخیص ہو چکی ہے اب تک انڈیا میں 40‘افغانستان میں سرکاری طور پر چار‘پاکستان میں7 ‘مالدیپ میں دو ‘بنگلہ دیش میں تین جبکہ سری لنکا، بھوٹان اور نپال میں ایک ایک کیس کی تصدیق ہو چکی ہے.جرمنی کے سرکاری ادارہ برائے امراض، روبرٹ کوک انسٹیٹیوٹ کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 1112 ہوگئی ہے اتوار کے روز جرمنی میں 847 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے.

کورونا وائرس کے پھیلاﺅ سے نمٹنے کے لیے قطر نے پاکستان سمیت 14 ایسے ممالک کی فہرست جاری کی ہے جہاں کا سفر کرنے والے قطر میں داخل نہیں ہو سکیں گے.قطر کے سفارت خانے کی جانب سے جاری ہونے والی ایڈوائیزری کے مطابق ایسے افراد جنہوں نے فروری 24 اور مسرچ 9 کے درمیان مندرجہ ذیل ممالک کا سفر کیا ہے، ان کو قطر میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا جن میں پاکستان‘بنگلہ دیش’چین’انڈیا’ایران’عراق’جنوبی کوریا’لبنان’نیپال’فلپائن’سری لنکا’شام اور تھائی لینڈشامل ہیں فہرست میں کورورنا وائر س کے شکار کسی بھی مغربی ملک کا نام شامل نہیں کیا گیا.چین میں، جہاں سے کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص ہوئی، پیر کے روز وائرس سے متاثر ہونے والے 40 نئے کیسز سامنے آئے یہ 20 جنوری کے بعد سے چین سے رپورٹ ہونے والے کیسز کی سب سے کم تعداد ہے.ان 40 کیسز میں سے 36 کا تعلق چین کے شہر ووہان سے ہے جہاں اس وائرس کی سب سے پہلے تشخیص ہوئی باقی چار کیسز ایران سے آئے ہیں تاہم چینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ پورے ملک میں شہریوں کو احتیاط کرنے کی ضرورت ہے اور اس بیماری سے بچاﺅ کے عمل میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جا سکتی.ادھرانڈیا کے شہر بنگلور میں حکام نے ایک ایسے مسافر بردار بحری جہاز کو لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جس پر 1400 افراد سوار ہیںجہاز رانی کی وزارت کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کورونا سے بچاﺅ کے اقدامات کے سلسلے میں کسی بھی غیرملکی کروز شپ کو انڈیا میں کہیں لنگرانداز نہ ہونے دیا جائے.انڈیا میں اب تک 40 افراد کے کورونا سے متاثر ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے تاہم پانامہ میں رجسٹرڈ ایم ایس سی لیریکا کے کسی مسافر کے کورونا سے متاثر ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے. امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 500 سے تجوز کر گئی ہے اور یہ بیماری ملک بھر میں پھیلتی جا رہی ہے اب تک کورونا کی وجہ سے امریکہ میں 21 اموات ہو چکی ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وبا سے نمٹنے کے لیے 8 ارب 30 کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد کی فراہمی کی منظوری دے دی ہے اور عوام سے کہا ہے کہ وہ پرسکون رہیں.اٹلی کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے ایک ہی دن میں 133 ہلاکتوں کے بعد ملک میں اس وبا سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 366 ہو گئی ہے اٹلی میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں بھی 25 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور یہ 7375 ہو گئی ہے اس طرح اٹلی چین سے باہر اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے جبکہ اس کے بعد جنوبی کوریا کا نمبر ہے.وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کی غرض سے اطالوی حکومت نے اپنے لگ بھگ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ شہریوں کو قرنطینہ میں منتقل کر دیا ہے اٹلی کی جانب سے شہریوں پر عائد کردہ پابندیاں چین کے بعد کسی بھی ملک میں اس حوالے سے عائد کردہ پابندیوں میں سخت ترین ہیں.اٹلی کے وزیر اعظم نے ملک بھر میں سکولوں، میوزیم، نائٹ کلب، جم اور دیگر بہت سے عوامی مقامات کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے قرنطینہ کا یہ دورانیہ تین اپریل تک جاری رہے گا.اتوار کو شروع ہونے والے ان اقدامات کی زد میں ملکی اقتصادیات کا اہم مرکز میلان اور سیاحتی مقام وینس بھی آیا ہے اور ان اقدامات سے ملک کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی متاثر ہوئی ہے.