سعودی عرب کریک ڈاﺅن کا دائرحکومتی عہدیداران اور فوجی افسران تک بڑھا دیا گیا

سعودی عرب نے شاہی خاندان کی گرفتاریوں کے بعد کریک ڈاﺅن کو وسعت دیتے ہوئے حکومتی عہدیداران اور فوجی افسران تک بڑھا دیا گیا.امریکی جریدے وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق یہ اقدام سعودی ولی عہد کی جانب سے اپنے اقتدار کے لیے ممکنہ چیلنجز کو ختم کرنے کے لیے اٹھایا گیا. یاد رہے کہ سعودی حکام نے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے بھائی اور بھتیجے سمیت 3 شہزادوں کو بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا تھا.

سعودی شاہی خاندان کے افراد کی جانب سے بغاوت کی مبینہ منصوبہ بندی پر گرفتاری کے بعد امریکی جریدے نے کہا تھا کہ زیر حراست افراد میں انٹیلیجنس کے سابق فوجی سربراہ شہزادہ نائف بن احمد بھی شامل ہیں رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مذکورہ کارروائیوں میں توسیع کو بغاوت کی حمایت کی کوشش کرنے والے وزارت داخلہ کے درجنوں عہدیداران، سینئر فوجی افسران اور دیگر ملزمان تک پھیلا دیا گیا ہے.دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 2 سعودی شہزادوں کی گرفتاری کے بعد ممکنہ بغاوت یا شاہ سلمان کی صحت کی اچانک خرابی کی قیاس آرائیاں جاری تھیںجس کے تناظر میں اتوار کے روز سرکاری میڈیا میں سعودی فرماں روا کی ایک تصویر جاری کی گئی جس میں وہ ظاہر اچھی صحت میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں شاہی خاندان کے 2 قریبی افراد کا کہنا تھا کہ دونوں شہزادوں کی گرفتاری ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر عمل میں آئی جو اپنے والد کی حمایت کے ساتھ اقتدار کی ہر سطح پر اپنا کنٹرول مستحکم کرلیا ہے.اس کے علاوہ سعودی فرماں روا کے چھوٹے اور چہیتے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز اور بھتیجے محمد بن نائف کی گرفتاری کو سعودی عرب میں ذرائع نے قیادت کے لیے اشتعال انگیز طرزعمل کا مجموعہ قرار دیا تھا ذرائع نے یہ بھی کہا تھا کہ ان گرفتاریوں سے شاہی خاندان میں ہر اس شخص کو پیغام دیا گیا ہے جو احساس محرومی رکھتا ہے کہ اپنی صفیں درست کرلیں اور خاموش ہوجائیں کیوں کہ اگر شہزادہ احمد بن عبدالعزیز گرفتار ہوسکتے ہیں تو کوئی شہزادہ بھی گرفتار ہوسکتا ہے.کریک ڈاﺅن کی رپورٹس جمعہ کو سامنے آئی تھیں جس کے بعد جاری کردہ ایک تصویر میں شاہ سلمان 2 سعودی سفارتکاروں سے حلف لیتے نظر آئے تھے یہ بات مد نظر رہے کہ گرفتار ہونے والے شہزادے محمد بن نائف پہلے سے ہی گہری نگرانی میں تھے کیوں کہ انہیں 2017 میں جانشینی کے دوڑ سے نکال دیا گیا تھا.دوسری جانب شہزادہ احمد بن عبدالعزیز کی گرفتاری بھی غیر متوقع تھی کیوں کہ وہ شاہ سلمان کے حقیقی چھوٹے بھائی اور السعود خاندان کے ایک سینئر رکن ہیں تاہم شہزادہ احمد ولی عہد کے حوالے سے مخالفانہ نظریات رکھتے تھے اور ان چند سینئر شہزادوں میں شامل ہیں جنہوں نے سعودی ولی عہد کے منصب سنبھالنے پر ان سے بیعت لینے سے انکار کردیا تھا.