نواز شریف کی امریکی، برطانوی اسٹیبلشمنٹ سے مبینہ ملاقات

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی امریکی برطانوی اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات کی تردید نہیں کروں گا۔تفصیلات کے مطابق لیگی رہنما اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ سے صحافی نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی امریکی اور برطانوی اسٹیبلشمنٹ سے مبینہ ملاقات سے متعلق سے سوال کیا جس پر انہوں نے 4 مارچ کو ہونے والی اس مبینہ ملاقات سے متعلق کہا ہے کہ وہ ان ملاقاتوں کی تردید نہیں کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان ملاقاتوں کی تردید نہیں کروں گا لیکن اس پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں اس لیے نہیں کہ پارٹی کی طرف سے اجازت نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا مارچ کے مہینے میں وطن واپسی کا ارادہ ہے۔

جب کہ نواز شریف دل کے آپریشن کے فوری بعد واپس آ جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا مسلم لیگ نواز نے کسی قومی حکومت کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے بجائے پارٹی وسط مدتی انتخابات چاہتی ہے۔رانا ثناءاللہ نے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کو باجی بدزبان قتررار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن احتجاج کے لیے ہر فورم کا انتخاب کرے گی جب کہ نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کے لیے قانونی ٹیم کی مشاورت جاری ہے۔جب کہ دوسری جانب وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ امور بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نواز شریف عدالت کے حکم اور اجازت سے علاج کیلئے بیرون ملک گئے تھے، حکومت نے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر انہیں بیرون ملک علاج کا موقع فراہم کیا تھا لیکن چار ماہ گزرنے کے باوجود وہ کسی ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے، ہم نے برطانوی حکومت کو لیٹر کے ذریعے آگاہ کر دیا ہے کہ پنجاب حکومت نے ان کی ضمانت ختم کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو باضابطہ طور پر برطانوی حکومت کو ان کی حوالگی کے بارے لیٹر لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کرپشن کے خلاف کام کر رہی ہے،