ڈاکٹر عدنان پر حملے کے پیچھے چھپی کہانی سامنے آ گئی

سابق نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان پر حملے کے پیچھے چھپی کہانی سامنے آ گئی۔تفصیلات کے مطاق سابق نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان پر حملے کی خبر سامنے آئی تھی۔ کچھ نقاب پوش افراد نے نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان پر حملہ کیا اور ان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔مسلم لیگ کے رہنماوٴں کی جانب سے حملے کی شدید مذمت کی گئی اور اسے سیاسی حملہ قرار دے دیا گیا۔تاہم لندن پولیس نے ن لیگ کی جانب سے سیاسی حملے کا دعویٰ مسترد کر دیا۔لندن پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عدنان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ڈکیتی کی واردات تھی،حملہ آور ڈاکٹر عدنان سے گھڑی چھین کر فرار ہوئے تھے۔ حملہ آوروں سے چھینا چھپٹی کے دوران ڈاکٹر عدنان زخمی ہوئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق موبائل چھیننے کی وارداتیں آئے روز ہوتی رہتی ہیں،یہ ایک ڈکیتی کی واردارت تھی،اگر واقعے میں کوئی سیاسی یا لسانی پہلو ہوتا تو سنجیدگی سے تفتیش کرتے۔

جب کہ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے ڈاکٹر عدنان پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی مخالفین کے خلاف تشدد، حملے اور ذاتیات تک جانا افسوسناک اور فاشسٹ سوچ کی عکاس ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ شریف فیملی کی رہائش گاہوں اور مجھ سمیت پارٹی کے دیگر رہنماؤں پر حملوں کا ماضی دیکھتے ہوئے سمجھ سکتے ہیں کہ ڈاکٹر عدنان کو نشانہ بنانے والے کون ہوسکتے ہیں۔ابق وزیر دفاع و رہنما مسلم لیگ ن خواجہ محمد آصف نے ڈاکٹر عدنان پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عدنان پر حملہ نہایت سنجیدہ معاملہ ہے، محض اتفاق نہیں۔ منگل کو اپنے مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ لندن میں ہونے والے واقعے کے لنک کہاں ملتے ہیں، تحقیقات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لندن پولیس کا بھی امتحان ہے کہ وہ معاملے کی تہہ تک جائے، نوازشریف جب سے لندن گئے ہیں، تب سے انہیں ہراساں کیا جا رہا تھا۔