بلوچستان حکومت کا تعلیمی ادارے مزید 15 دن تک بند رکھنے کا اعلان

بلوچستان میں تعلیمی ادارے 31 مارچ تک بند رکھنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔تعلیمی ادارے 16 مارچ کے بجائے 31 مارچ تک بند رہیں گے۔تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کسی بھی سرکاری وغیر سرکاری تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت نہیں دیں گے۔کرونا وائرس کے باعث تعلیمی ادارے 16 سے 31 مارچ تک بند رہیں گے۔چھٹیوں میں اضافے کا اطلاق نجی تعلیمی اداروں پر بھی ہو گا۔31 مارچ کو اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ تعلیمی اداروں کو مزید بند رکھنا ہے یا پھر کھولنا ہے۔خیال رہے کہ کوئٹہ میں کرونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آیا تھا۔جس کی وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بھی تصدیق کر دی تھی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے بارہ سال کا بچہ متاثر ہوا ہے جس کو فاطمہ جناح اسپتال میں رکھا گیا ہے۔

ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچے کے اہل خانہ کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں تاہم بچے کو آئسولیشن روم منتقل کر دیا گیا ۔ کورونا وائرس سے متاثرہ بچے کے خاندان کا تعلق بلوچستان سے نہیں ہے۔جب کہ دوسری جانب جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے رہنما صوبائی جنرل کونسل کی ممبر ترجمان سریاب یوسف وقار شاھوانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی حکومت کرونا وائرس جیسی خطرناک بیماریوں سے نمٹنے کے لیے جلد از جلد اقدامات کر لیں ورنہ پورے بلوچستان کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کے بارڈر سے زائرین کو کوئٹہ منتقل کرنا اور کوئٹہ کے مقامی ہسپتالوں میں علاج کے بہانے انہیں رکھنا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں شیخ زید اسپتال، سول اسپتال کوئٹہ،اور بولا میڈیکل کالج اسپتالوں میں ٹیسٹ کے لیے ایک مشین بھی نہیں اور صوبائی حکومت دعوی کرتا ہے کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے تیار ہے جہاں مریض تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں لیکن کسی کو ان کی جان کی پتہ تک نہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں نسل کشی کا بہت بڑے پیمانے پر بندوبست کیا گیا ہے۔جوکہ ایران سے ہوتے ہوئے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کرونا وائرس کے مریضوں کے لئے جو بندوبست کیا گیا ہے یہ صرف فوٹو سیشن کے لئے ہے بلکہ عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے اکثر اسپتالوں میں زکام، اور کھانسی، بخار کے لیے ٹیسٹ اور دوائی نہیں ہیں اور صوبائی حکومت کے دعویداروں نے کرونا وائرس جیسے خطرناک بیماریوں سے نمٹنے کے لیے کوئٹہ کے مقامی اسپتالوں کو استعمال کیا جارہاہے بلکہ کورونا وائرس جیسے موذی مرض کیلئے الگ ہسپتال بنایا جائے۔