سینیٹر رحمان ملک کا حکومت سے دفعہ 144نافذ کرنے کا مطالبہ

چین کے شہر وہان سے شروع ہونے والے کرونا وائرس نے اب دنیا بھر میں اپنے قدم جما لئے ہیں۔پاکستان میں بھی کرونا وائرس کے داخل ہونے کے بعد اس کے ابھی تک20 مریض سامنے آ چکے ہیں۔اسی پر بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے حکومت سے ملک میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کرونا وائرس کے خلاف غیر سنجیدہ رویہ ترک کر ،حکومت کو عوام کی صحت سے کھیلنے کی اجازت کسی صورت نہیں ہے۔تمام تعلیمی اداروں اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو 30 مارچ تک بند کر دینا چاہیئے۔مزید بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی لگائی جائے، لوگوں کو گروہ کی شکل میں کہیں نہ کھڑے ہونے دیا جائے اور کوشش کی جائے کہ اسمبلیوں کے اجلاس کو بھی 30 مارچ تک بند کر دیا جائے۔

یاد رہے کہ مہلک کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچائی ہوئی ہے ۔

ابھی تک اس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 1 لاکھ 20 ہزار تک پہنچ چکی ہے جبکہ اس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 4638 تک پہنچ گئی ہے۔ہنگامی صورتحال میں ہر ملک کی جانب سے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ اس سے بچا جا سکے۔پاکستان میں ابھی تک 20 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں دفعہ 144 نافذ کر دی جائے ۔مطالبہ کرتے ہوئے رہنما پیپلز پارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حکومت کرونا وائرس کے خلاف غیر سنجیدہ رویہ ترک کر ،حکومت کو عوام کی صحت سے کھیلنے کی اجازت کسی صورت نہیں ہے۔تمام تعلیمی اداروں اور کھیلوں کی سرگرمیوں کو 30 مارچ تک بند کر دینا چاہیئے۔