عثمان بزدار سے ملاقات نون لیگ کے 6 صوبائی ارکان اسمبلی کی پارٹی رکنیت معطل

مسلم لیگ( ن) نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کرنے والے نون لیگ کے 6 صوبائی ارکان اسمبلی کی پارٹی رکنیت معطل کردی ہے.ان ارکان کو مسلم لیگ نون نے شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا ہے وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والے ایم پی ایز کو 7 دنوں میں شوکاز نوٹس کا جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے.یاد رہے کہ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے 6 جبکہ پیپلز پارٹی کے ایک رکن پنجاب اسمبلی نے کچھ روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی تھی.

یہ اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی جس میں حزب اختلاف کے ارکان وزیراعلیٰ کو ملنے گئے ہیںاس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے نشاط ڈاہا نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے میرا پرانا تعلق ہے وہ کہیں گے تو صوبائی اسمبلی سے استعفیٰ دے دوں گا.نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب کے پاس میں کسی ممبر کو لیکر نہیں گیا انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب سے ملاقات کے دوران غیر مشروط حمایت کی کوئی بات نہیں ہوئی.ان کا کہنا تھا کہ نون لیگ کے ممبران آگے پیچھے دیکھ رہے ہیں مریم نواز کا سیاست میں دوبارہ سرگرم ہونا خوش آ ئند ہے انہیں چاہیے کہ وہ ممبران کو بلائیں اور ان کی بات سنیں.یاد رہے کہ 26جنوری کو پنجاب کے وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان نے دعویٰ کیا تھا کہ مسلم لیگ نون کے 50 سے زائد ارکان تحریک انصاف سے مستقل رابطے میں ہیں. فیاض الحسن چوہان نے کہا تھا کہ مسلم لیگ نون کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے 20 ممبران اسمبلی کے فارورڈ بلاک بنانے کی خبریں آج دم توڑ گئی ہیں.انہوں نے کہا تھا کہ حقیقت یہ ہے مسلم لیگ نون کے 50 سے زائد ارکان تحریک انصاف سے مستقل رابطے میں ہیں اور بزدار حکومت جب چاہے انہیں پارٹی میں شامل کر سکتی ہے لیکن ایسی ادھیڑ بن کی سیاست تحریک انصاف کا وطیرہ نہیں ہے.