قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے. فردوس عاشق اعوان

وزیراعظم عمران خان کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ آزادی اظہار کو یقینی بنانے کے لیے حکومت صحافتی برادری کی ہر رکاوٹ دور کرنے کے لیے پرعزم ہے، وزیر اعظم کی 22 سالہ جدوجہد کا نصب العین یہ ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے.اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ جنگ اور جیو نیٹ ورک کے ایڈیٹر اِن چیف میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے واقعے کا کل میڈیا کے ذریعے ہی مجھے اور حکومت کو پتہ چلا.انہوں نے کہا کہ حکومت آزادی رائے کے حق پر کامل یقین رکھتی ہے اور ہر آئینی و قانونی محاذ پر آئین کے ساتھ کھڑی ہے.

معاونِ خصوصی نے کہا کہ قانون کو طاقت دینا، اداروں کو بااختیار بنانا اور طاقتور افراد کو قانون کے ماتحت کرنا اس جدوجہد کا حاصل ہے ، یہ حکومت قانون اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے اداروں میں اصلاحات لے کر آئی ، کرپشن فری پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے ہم نیب سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ قانون کا یکساں اطلاق کرے ، یہ تاثر نہیں ابھرنا چاہیے کہ کمزور دھر لیا جائے اور طاقتور کو چھوڑ دیا جائے ، ہم اسے ایک آزاد ادارے کے طورپر آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں.

وزیر اعظم کی معاونِ خصوصی نے کہاکہ کل کی گرفتاری سے جڑے واقعے میں نیب کا کردار حکومت سے نتھی کرنا اور یہ تاثر دینا کہ حکومت نے صحافتی آزادی کو قتل کردیا ہے، کسی سیٹھ کی کاروباری اور مالی معاملات میں ہونے والی انکوائری یا گرفتاری میڈیا کی آزادی سے جوڑنا اور اس کو حکومت کے خلاف رائے سازش کے لیے استعمال کرنا صحافتی اقدارکی نفی ہے.انہوں نے کہا کہ اس گرفتاری کو انتقام پسندی اور حکومتی خواہش کے تابع کرنا زیادتی ہے، اگر نیب نے میر صاحب کو گرفتار کر کے ان کا ریمانڈ لیا ہے تو توقع رکھتے ہیں کہ نیب ٹھوس ثبوت اور واضح حقائق عدالتوں کے سامنے لائے گاتاکہ نیب کا ایکشن آئین و قانون کی نظر میں جائز ہو سکے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میر شکیل الرحمان اور صحافیوں سے بھی توقع ہے کہ حکومت پر تیر برسانے کے بجائے بے گناہی کے ثبوت عدالت کے سامنے پیش کریں گے،عدالتیں آزاد اور خود مختار ہیں، عدالتوں کے اب تک کے عمل پر کسی شخص کو کوئی شک نہیں.انہوں نے کہا کہ جنگ اور جیو دوسروں کے لیے ٹرینڈ سیٹر ہے، ہم نے ہمیشہ ان کے آزاد تبصروں سے رہنمائی لیتے ہوئے اپنی خامیوں کے تدارک کے لیے احترام کیا ہے ، جنگ اور جیو میں حکومت کے خلاف ٹارگٹ کرکے پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے ، اس عمل کو وزیرِ اعظم کی ذات سے جوڑا جار ہاہے ، یہ صحافت کے بنیادی اصولوں کی نفی ہے. معاونِ خصوصی برائے اطلاعات نے کہاکہ زیادتی و ناانصافی کو بے نقاب ضرور کریں لیکن حکومتی اور ادارے کے موقف کو چلانا بھی آپ کی صحافتی ذمے داری میں آتا ہے ، اگر حکومت کو بدنام کرنے کی ایجنڈوں پر مشتمل مہم چلائی جائے گی تو کیمرے کی آنکھ ان صحافیوں کو بھی دیکھ رہی ہے.ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میر شکیل اور جنگ گروپ نیب کیس میں گرفتاری پر حکومت پر تیر برسانے کی بجائے بے گناہی کے ثبوت دیں انہوں نے کہا کہ جنگ‘ جیو گروپ اپنے مالک کی گرفتاری پر حکومت کے خلاف پروپگینڈا کرنے میں مصروف ہیں، میر شکیل اور جیو نیوز کے اینکرز کو چاہیے کہ حکومت پر تیر برسانے کی بجائے اپنی بے گناہی کے ثبوت عدالت میں پیش کریں.انہوں نے کہا کہ انہیں عدالت سے انصاف کی توقع رکھنی چاہیے جو ایسے معاملات پر میرٹ کے مطابق فیصلہ کرتی ہے ایک صحافی کارکن نے دوسرے صحافتی ادارے کے خلاف درخواست دی، حکومت کا صحافی کارکن اور صحافتی ادارے سے کوئی تعلق نہیں، الزام لگتے رہتے ہیں اور سیاستدان بھی الزامات کا سامنا کرتے رہتے ہیں، قانون کی نظرمیں کوئی مقدس گائے نہیں، نیب کا کردار حکومت کے ساتھ نتھی کرنا صحافتی اقدار کی نفی ہے.فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ نیب کا کردار حکومت کے ساتھ جوڑنا اور میر شکیل کی گرفتاری کو میڈیا کی آزادی سے جوڑنا صحافتی اقدار کی نفی ہے، نیب سے نہ انتقام کی بو آنی چاہیے، نہ ہی تاثر ابھرے کہ کمزور دھر لیا جائے اور طاقتور چھوڑ دیا جائے، نیب کو آزاد ادارے کے طور پر آگے بڑھنا دیکھنا چاہتے ہیں، نیب ٹھوس ثبوت عدالتوں میں سامنے لائے تاکہ نیب کا یہ اقدام آئین و قانون کی نظر میں درست ثابت ہوسکے.فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ نیب نے میر شکیل الرحمان کو سابق وزیراعظم نواز شریف سے غیر قانونی طور پر پلاٹ لینے پر گرفتار کیا لیکن جنگ اور جیو گروپ اس عمل کو وزیراعظم کی ذات کے ساتھ جوڑ رہا ہے، صرف حکومت کو ٹارگٹ کرکے وزیراعظم کی کردارکشی کی جائے گی تو کیمرے کی آنکھ ان کو بھی دیکھ رہی ہے.