پنجاب حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے بڑا فیصلہ کرلیا

پنجاب حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے بڑا فیصلہ کرلیا، وزیراعلیٰ پنجاب نے تمام قیدیوں کی 2 ماہ کی سزا معاف کردی، دو ماہ کی معافی سے سینکڑوں قیدیوں کی رہائی ممکن ہوسکے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت کورونا وائرس کے تدارک کیلئے اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے جیلوں میں قید تمام قیدیوں کی 2 ماہ کی سزا معاف کردی ہے۔دو ماہ کی معافی سے سینکڑوں قیدیوں کی رہائی ممکن ہوسکے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہر وہ کام کررہے ہیں جس سے کورونا وائرس سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔ دوسری جانب محکمہ صحت سندھ نے کرونا وائرس سے بچاو کیلئے جیل میں رہنے والے قیدیوں کیلئے ایڈوائزی جاری کر دی۔

محکمہ صحت سندھ نے قید خانوں میں خصوصی ہیلتھ ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت کر دی۔

محکمہ صحت سندھ کیحکام کے مطابق چالیس سال سے اوپر اور کم قوت مدافعت والے قیدیوں کو جیل میں الگ رکھا جائے، جیل میں تمام افراد ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں گے، تمام قیدیوں کو صابن اور سینیٹائزر کی سہولیات فراہم کی جائیں، قیدیوں کو کھانسنے اور چھینکنے پر منہ ڈھانپنے کی ہدایت کی جائے، قیدخانوں میں تمباکو نوشی پر پابندی عائد کی جائے، قیدیوں سے تفتیش کرنے والے پولیس اہلکار احتیاطی تدابیر اپنائیں گے۔مزید برآں وفاقی حکومت کی جانب سے جہاں جان لیوا کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے زبردست پیشگی اقدامات کیے جارہے ہیں، وہاں صوبائی حکومتیں ابھی کچھ معاملات میں غفلت کا مظاہرہ کررہی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ بلوچستان حکومت نے کوئٹہ شیخ زید ہسپتال کے آئیسولیشن وارڈ میں جو کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے سامان فراہم کیا گیا وہ زائد المعیاد نکلا، اس سامان میں ماسک ، سرجیکل کٹس،اور دوسراسامان ایکسپائر نکلا، یہی نہیں بلکہ حکومتی لوگوں کی جانب سے ایکسپائری ڈیٹ کو چھپانے کیلئے ٹمپرنگ بھی کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس انتہائی سنگین نوعیت کا معاملہ ہے لیکن حکومت بلوچستان کی جانب سے انتہائی غیرذمے داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔کوئٹہ شیخ زید ہسپتال کے آئیسولیشن وارڈ میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کو جوسامانا فراہم کیا گیا، یہ سارا سامان 2011ء میں ایکسپائر ہوچکا تھا۔