سینٹی ٹائیزر کے زیادہ استعمال کے نقصانات سامنے آ گئے

سینٹی ٹائیزر کے زیادہ استعامل کے نقصانات سامنے آ گئے،ماہرین امراض جلد نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ سینٹی ٹائیزر کا زیادہ استعمال جلدی امراض اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا کر سکتا ہے۔کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے جہاں ماہرین عوام کو پانی اور صابن سے بار بار ہاتھ دھونے کے ساتھ سینٹی ٹائیزر کا استعمال کرنے کی تلقین کر رہے ہیں وہیں ماہرین امراض جلد نے شہروں کو آگاہ کیا ہے کہ سینٹی ٹائیزر کے زیادہ استعمال سے جلدی خارش کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سینٹی ٹائیزر کے مستقل استعمال سے سانس کی بیماری بھی ہو جاتی ہے۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ہاتھ اور منہ دھونے کے لیے صابن اور پانی کا زیادہ استعمال کیا جائے۔

سینٹی ٹائیزر کا استعمال پانی اور صابن نہ ہونے کی صورت میں کیا جائے۔ دوسری جانب پولیس کی مختلف علاقوں میں کرونا وائرس کے بچاؤکیلئے استعمال ہونے والے ماسک سینیٹائزر کے غیرقانونی اور مہنگے داموں فروخت کرنے والوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے بھی سرجیکل ماسک کی قیمتیں مقرر نہ کرنے کے خلاف دائر درخواست پر ماسک اور سینی ٹائزر کی قیمتیں مقرر کرنے اور ان کی فوری فراہمی کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ دفعہ 144 لگا دی ،ماسک پھر بھی نہیں مل رہے،دفعہ 144کامقصد لوگوں کوبند کرنا اور قیدی بنانا نہیں ہونا چاہئے،عدالت نے استفسارکیاکہ ذخیرہ اندوزوں اورمہنگے ماسک فروخت کرنیوالوں کے خلاف کیاکارروائی کی گئی،مارکیٹ سے تو ہینڈ سینی ٹائزر بھی غائب ہوچکے ہیں،سرکاری وکیل نے بتایا کہ راولپنڈی میں چھاپہ مارکرچار چائینز پکڑے ہیں جو لاکھوں روپے کے ماسک کی ذخیرہ اندوزی کررہے تھے،زیادہ تر ماسک بیرون ملک سے آتا تھا،ملک میں ماسک کی پیداوار یومیہ 75 ہزارہے،ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ڈاکٹر سلمان کاظمی نے کہا کہ پکڑے گئے ماسک ہسپتالوں کو فراہم کئے جائیں تاکہ ڈاکٹروں کو آسانی ہو۔